جن لوگوں کاآڈٹ ہونا چاہیے ان کوسینے سے لگانا اور پارٹیوں میں عہدے دینا جمہوریت کے ساتھ بدترین مذاق ہے ‘سراج الحق

اب یہ لٹیرے جس پارٹی میں بھی جائیں گے انہیں عوام ووٹ اور سپورٹ نہیں دیں گے ، عوام ان کے چہروں اور کرتوتوں کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں اب ان کو امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی نہیں بچا سکے گی ‘امیر جماعت اسلامی

اتوار مئی 22:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کاہے کہ جن لوگوں کاآڈٹ ہونا چاہیے ان کوسینے سے لگانا اور پارٹیوں میں عہدے دینا سیاست اور جمہوریت کے ساتھ بدترین مذاق ہے ، سیاسی جماعتیں ان سیاسی یتیموں کو پناہ دے رہی ہیں جن کی وجہ سے سابقہ حکومتیں بدنام اور ناکام ہوئیں ،یہ سیاسی اور معاشی دہشتگردہیں جو دولت کے بل بوتے پر الیکشن کو یرغمال بناتے ہیں اور پھر اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہو کر قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں لیکن اب متحدہ مجلس عمل ان کی لوٹ مار کی سیاست کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردے گی ، ہم اقتدار میں آ کر لٹیروں کا محاسبہ کریں گے اور ان سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت کی پائی پائی وصول کریں گے ، اب یہ لٹیرے جس پارٹی میں بھی جائیں گے انہیں عوام ووٹ اور سپورٹ نہیں دیں گے ، عوام ان کے چہروں اور کرتوتوں کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں اب ان کو امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی نہیں بچا سکے گی ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوں نے متحدہ مجلس عمل پنجاب کی طرف سے مقامی ہوٹل میں اپنے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرجماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، امیر جماعت اسلامی و صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب میاں مقصود احمد ، ڈاکٹر جاوید اختر ، امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد، مولانا محمد امجد خان اور سبطین سبزواری بھی موجود تھے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عام شہری موجودہ سیاست اور سیاسی نظام سے بے زار ہیں ۔ جن لوگوں نے یہ ظلم و جبر اور استحصالی نظام مسلط کیاہے وہ ہر حال میں اقتدار پر قابض رہنا چاہتے ہیں ۔ نام نہاد جمہوریت ہو یا مارشل لاء ، یہی چند خاندان اقتدار میں ہوتے ہیں اور انہی کی وجہ سے ملک و قوم مسائل کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری ، بدامنی اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کے یہی لوگ ذمہ دار ہیں اور ان کی وجہ سے یہ ہی عوام آئی ایم ایف کی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔

ان لوگوں نے اتنے قرضے لیے کہ اب ان کا سود ادا کرنا بھی مشکل ہوچکاہے ۔ اس گندے اور شیطانی نظام کی نحوست ہے کہ معصوم بچوں اور بچیوں کے اغوا ، زیادتی اور پھر انہیں مار دینے کے واقعات ہورہے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ملک میں نظام مصطفی ؐ کا نفاذ چاہتی ہے ہم ایسا نظام چاہتے ہیں کہ کسی غریب کا استحصال نہ ہو ۔ عام آدمی کو بھی تعلیم ، علاج ، روزگار اور انصاف جیسی بنیادی سہولتیں اس کی دہلیز پر ملیں ۔

انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت احتساب کا ایسا مضبوط نظام بنائے گی کہ کوئی بڑے سے بڑا صاحب اختیار بھی احتساب سے بچ نہیں سکے گا ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ دجالی نظام میں یہ سکت نہیں کہ وہ کسی ظالم کا احتساب کر کے اسے نشان عبرت بناسکے ۔ انہوںنے کہاکہ حکمران آئین کی صرف ان دفعات پر عمل کرتے ہیں جن میں ان کے اختیارات کا ذکر ہوتاہے اور جن دفعات میں عوام کے حقوق کا ذکر ہو ، وہاں یہ اندھے ، گونگے اور بہرے بن جاتے ہیں ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ فلسطین اور کشمیر جیسے قومی مسائل کو یہ حکمران اپنا مسئلہ نہیں سمجھتے ان کا صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ الیکشن جیت کر اقتدار میں کیسے آناہے ۔ یہ سیاسی دہشتگرد دولت کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں اور سیاست کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں ۔ ملک میں جمہوریت ہو یا مارشل لاء ، ان کے وارے نیارے ہوتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل اقتدار میں آ کر اس ستر سالہ ظلم و جبر کے نظام کا خاتمہ کرے گی ۔ ہم وی آئی پی کلچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور سودی نظام کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر کے ملک میں عشر و زکوة کا شرعی نظام رائج کریں گے ۔