ایون فیلڈ ریفرنس کا حتمی مرحلہ:

نواز شریف نے بیان قلمبند کرانا شروع کردیا

Fahad Shabbir فہد شبیر پیر مئی 10:14

ایون فیلڈ ریفرنس کا حتمی مرحلہ:
اسلام آباد: (دنیا نیوز) اسلام آباد:: احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر) صفدر احتساب عدالت پیش ہو گئے۔۔سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنا بیان قلمبند کرانا شروع کردیا۔  احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب ریفرنسز کی سماعت کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف نے بیان قلمبند کروانا شروع کر دیا۔

عدالت میں نواز شریف عدالتی سوالات کا جواب پڑھ کر سنا رہے ہیں، پہلے سوال میں نواز شریف نے اپنے عوامی عہدوں کی تفصیلات بتائی، سابق وزیراعظم کی طرف سے جے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق جواب دے دیا گیا۔ نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا میری عمر 68 سال ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم رہ چکا ہوں، مجھے جے آئی ٹی کے ارکان پر اعتراض تھا، یہ اعتراض پہلے بھی ریکارڈ کرایا،  جب کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے مجھے یہ حق دیتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا جےآئی ٹی ارکان کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے، جےآئی ٹی رکن بلال رسول سابق گورنر پنجاب کے بھانجے ہیں، میاں اظہر کے بیٹے حماد اظہر کی عمران خان کیساتھ 2017 کو تصاویر لی گئیں، بلال رسول پی ایم ایل این حکومت کیخلاف تنقیدی بیانات دے چکے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ بلال رسول کی اہلیہ بھی تحریک انصاف کی سرگرم کارکن ہیں، جےآئی ٹی رکن عامرعزیزبھی جانبدار ہیں، سرکاری ملازم ہوتے ہوئے سیاسی جماعت سے وابستگی ہے، عامرعزیزمشرف دورمیں بھی میری فیملی کیخلاف ریفرنسزکی تحقیقات میں شامل رہے، سابق وزیراعظم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ واجد ضیاء نے اپنے کزن کے ذریعے جے آئی ٹی تحقیقات کرائیں جب کہ تحقیقات میں ان کی جانبداری عیاں ہے۔

نوازشریف تحریری بیان پڑھ کر ریکارڈ کرا رہےہیں مذکورہ کیس کی 18 مئی کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر وکیل صفائی خواجہ حارث نے ملزمان کو دیئے گئے سوالنامے پر اعتراض کردیا تھا، جس پر عدالت نے آخری چانس دیتے ہوئے کہا تھا کہ 21 مئی کو ملزمان کے بیانات قلمبند ہوں گے۔یاد رہے لندن فلیٹس ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانے کیلئے شریف خاندان کی قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ سے پاناما کیس کا مصدقہ ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ شریف خاندان کے وکیل کو فراہم کیے گئے عدالتی ریکارڈ میں شریف خاندان کیخلاف دائر درخواستیں، فریقین کے تحریری جوابات، شریف خاندان کی نظرثانی درخواستیں اور دیگر دستاویزات شامل ہیں۔