غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایمسٹرڈم میں احتجاجی مظاہرہ

’ آزاد فلسطین‘‘، ’’دہشت گرد اسرائیل ، دہشتگرد امریکا ‘‘ اور ’’ نیتن یاہوقاتل‘‘کے نعرے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر فلسطینیوں کی بجائے اتنی ہی تعداد میں یہودیوں کو ہلاک کردیا جاتا تو دنیا کا ردعمل کیا ہوتا، ہالینڈ فلسطین کمیٹی وقف کے سربراہ رابرٹ سوٹرینک کا مظاہرین سے خطاب

پیر مئی 11:10

ایمسٹرڈیم ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) ہالینڈ فلسطین کمیٹی وقف کے سربراہ رابرٹ سوٹرینک نے کہا ہے کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر فلسطینیوں کی بجائے اتنی ہی تعداد میں یہودیوں کو ہلاک کردیا جاتا تو دنیا کا ردعمل کیا ہوتا، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے، اس کی معیشت کو دھچکا لگا کر اور ہالینڈ اور دیگر حکومتوں کی طرف سے پابندیاں لگوا کر ہم اسرائیل سے فلسطینیوںکے حالیہ قتل عام کا حساب پوچھ سکتے ہیں۔

وہ اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام ہالینڈ فلسطین کمیٹی وقف کی طرف سے کیا گیا، مظاہرے کے ساتھ مختلف متعدد سماجی تنظیموں نے بھی تعاون کیا اور اس میں کثیر تعداد میں افراد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

مظاہرین ڈیم اسکوائر میں جمع ہوئے، انہوں نے فلسطینی پرچم اور ’’فلسطین کے لئے آزادی ‘‘، ’’گرینڈ واپسی مارچ‘‘، ’’بائیکاٹ اسرائیل‘‘ اور "خونریزی بند کرو‘‘ کے نعروں والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور مظاہرین نے ’’ آزاد فلسطین‘‘، ’’دہشت گرد اسرائیل ، دہشتگرد امریکا ‘‘ اور ’’ نیتن یاہوقاتل‘‘کے نعرے لگائے۔

بعد ازں مظاہرین نے ایمسٹر ڈیم میں امریکی قونصل خانے کی طرف مارچ کی۔ رابرٹ سوٹرینک نے اپنے خطاب میں 14 مئی کو غزہ کی سرحد پر اسرائیل فوجیوں کی طرف سے کئے گئے قتل عام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اس اسرائیلی وحشت و بربریت پر بات کی گئی لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ یہاں تک کہ ہالینڈ کی حکومت نے غزہ کے قتل عام کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کے مطالبے تک کو قبول نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ذرا سوچیں کہ اگر موجودہ کے بالکل برعکس فلسطینی ماہر نشانے بازوں کی طرف سے کثیر تعداد میں یہودیوں کو ہلاک کردیا جاتا تو دنیا اور ہالینڈ کا ردعمل کیا ہوتا۔ حالیہ اقدامات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں پر دباو میں مزید اضافہ کرے گا، اس کا ہدف مزید تشدد کے ساتھ فلسطینیوں کو ہراساں کرنا اور مزاحمت سے باز کرنا ہے۔

سوٹرینک نے کہا کہ اسرائیل پر موثر دبائو ڈال کر قتل عام کا سدباب کیا جاسکتا ہے، ہم اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے اور اس کی معیشت کو دھچکا لگا کر اور ہالینڈ اور دیگر حکومتوں کی طرف سے پابندیاں لگا کر اسرائیل سے اس قتل عام کا حساب پوچھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دبائو اور تشدد کے خلاف فلسطین کی جدوجہد ہماری بھی جدوجہد ہے۔