پاناماکیس :سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی کے ارکین کی سیاسی جماعتوں سے وابستگیوں پر اعتراض تھا۔نواز شریف

آئی ایس آئی ، ایم آئی کے نمائندوں کا جے آئی ٹی میں شامل ہونا درست نہیں تھا‘ 70سال کا سول ملٹری جھگڑا جے آئی ٹی کی کارروائی پراثراندازہوا ‘بریگیڈیئر نعمان، کامران کی تعیناتی مناسب نہیں تھی۔ایون فیلڈ ریفررنس میں بیان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 11:23

پاناماکیس :سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی کے ارکین کی سیاسی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 مئی۔2018ء) سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ انہیں پاناماکیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ارکان کی سیاسی جماعتوں سے وابستگیوں پر اعتراض تھا‘ یہ اعتراض پہلے بھی ریکارڈ کرایا، آئین کا آرٹیکل 10 اے مجھے یہ حق دیتا ہے۔نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس کے دوران سابق وزیراعظم نے احتساب عدالت میں لند ن فلیٹس ریفرنس سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

اپنے بیان میں نوازشریف نے کہا کہ جے آئی ٹی رکن بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے بھانجے ہیں، میاں اظہر کے بیٹے حماد اظہر کی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ 24ستمبر2017 ءکو تصاویر لی گئیں‘یہ تصاویر عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں لی گئیں۔

(جاری ہے)

جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے اپنے کزن کے ذریعے جے آئی ٹی تحقیقات کرائیں، جن میں واجد ضیاءکی جانبداری عیاں ہے ، بلال رسول نے مسلم لیگ( ن) کی حکومت کےخلاف تنقیدی بیانات دیے ، ان کی اہلیہ بھی پاکستان تحریک انصاف کی سرگرم کارکن ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی رکن عامر عزیز بھی جانبدار ہیں، سرکاری ملازم ہوتے ہوئے سیاسی جماعت سے وابستگی ہے، عامر عزیز مشرف دور میں میرے اورفیملی کے خلاف نیب ریفرنسز کی تحقیقات میں بھی شامل رہے۔ نواز شریف نے اپنے عوامی عہدوں کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں، احتساب عدالت میں مسلم لیگ( ن) کے قائد نوازشریف کا بیان کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 342 کے تحت قلمبند کیا جا رہا ہے۔

نوازشریف سے 128 سوالات پوچھے جائیں گے۔عدالت میں سماعت کے آغاز پر معززجج محمد بشیر نے سوال کیا کہ آپ کی عمر کتنی ہے جس پر سابق وزیراعظم نوازشریف نے جواب دیا کہ میری عمر68 سال ہے۔نوازشریف نے عدالت کو بتایا کہ میں وزیراعلیٰ پنجاب، وزیراعظم پاکستان رہ چکا ہوں۔ مسلم لیگ( ن) کے قائد نے کہا کہ جے آئی ٹی کے رکن عامرعزیز نے مشرف دور میں حدیبیہ پیپرملز کی تحقیقات کی، وہ 2000ءمیں شریف خاندان کے خلاف ریفرنس میں تفتیشی افسرتھے۔

نوازشریف نے کہا کہ سال 2000 میں عامرعزیز بطورڈائریکٹر بینکنگ کام کررہے تھے اور انہیں پرویز مشرف نے ڈیپوٹیشن پرنیب میں تعینات کیا۔سابق وزیراعظم نے عدالت کو بتایا کہ مجھے اپنے خلاف پیش کیے گئے شواہد کی مکمل سمجھ آگئی ہے۔انہوں نے جے آئی ٹی کی تشکیل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی ، ایم آئی کے نمائندوں کا جے آئی ٹی میں شامل ہونا درست نہیں تھا۔

نوازشریف نے کہا کہ 70سال کے سول ملٹری جھگڑے کا بھی جے آئی ٹی کی کارروائی پراثرہوا جبکہ بریگیڈیئر نعمان، کامران کی تعیناتی مناسب نہیں تھی۔مسلم لیگ( ن) کے قائد نے کہا کہ عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس تاحال سپریم کورٹ میں ہے، انہیں بھی جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ بریگیڈیئرنعمان سعید ڈان لیکس جے آئی ٹی میں بھی شامل تھے اور میری معلومات کے مطابق نعمان سعید بطورسورس کام کررہے تھے۔

نوازشریف نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی نے 10 والیم تیار کیے جو غیر متعلقہ تھے، جے آئی ٹی کی 10والیم پرمشتمل خودساختہ رپورٹ غیرمتعلقہ تھی۔انہوں نے کہا کہ خودساختہ رپورٹ سپریم کورٹ میں دائردرخواستیں نمٹانے کے لیے تھی، ان درخواستوں کو بطور شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ہے، ناقابل قبول شہادت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے جمع شواہد کے تحت ریفرنس دائرکرنے کا کہا، سپریم کورٹ نے نہیں کہا رپورٹ کوبطورشواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔نوازشریف نے کہا کہ جے آئی ٹی نے شاید مختلف محکموں سے مخصوص دستاویزات اکٹھی کیں، یہ تفتیش یکطرفہ تھی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اختیارات سے متعلق نوٹیفکیشن جے آئی ٹی کی درخواست پرجاری ہوا، جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی معاونت کے لیے تھی، اس ریفرنس کے لیے نہیں۔

نوازشریف نے عدالت کو بتایا کہ ایون فیلڈ جائیداد کا حقیقی یا بینیفشرمالک نہیں رہا اورجائیداد خریدنے کے لیے کوئی فنڈ فراہم نہیں کیے۔نوازشریف نے لند فلیٹس کی منی ٹریل سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یہ سوال حسن اور حسین سے متعلق ہیں اور دونوں عدالت میں موجود نہیں ہیں۔انہوں نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ ایسے شواہد پیش نہیں کیے گئے جن سے میر الندن فلیٹس سے تعلق ظاہرہو۔