اس بات پر مت رو کہ سب ختم ہوگیا بلکہ اس بات پر مسکراؤ کہ۔۔۔۔ سبیکا شیخ کی ڈائری پر لکھے ایک جملے نے سب کو آبدیدہ کر دیا

سبیکا نے تخلیقی تحریر پر ایوارڈ جیت رکھا تھا،سبیکا شیخ کو امریکی تاریخ پڑھنے کا بہت شوق تھا؛سبیکا شیخ کی والدہ کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر مئی 11:34

اس بات پر مت رو کہ سب ختم ہوگیا بلکہ اس بات پر مسکراؤ کہ۔۔۔۔ سبیکا شیخ ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔21مئی 2018ء) امریکی ریاست ٹیکساس میں روزے کی حالت میں جاں بحق ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کی موت نے ہر پاکستانی کو غم سے نڈھال کر دیا ہے۔سبیکا کے والد ین ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں آ سکے کہ ان کی ذہین بیٹی اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق سبیکا شیخ کی میز پر اب بھی اس کی ڈائری رکھی ہوئی ہے۔

جس میں سبیکا شیخ کے پسندیدہ اقوال اور جملے درج ہیں۔سبیکا شیخ کی ڈائری کے ایک صفحے پر درج ہے کہ " اس بات پر مت رو کہ سب ختم ہوگیا بلکہ اس بات پر مسکراؤ کہ جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔سبیکا شیخ کی ڈائری کے ایک صفحے پر لکھے اس جملے کو پڑھ کر لگتا ہے کہ گویا سبیکا شیخ اپنے والدین کو حوصلہ اور تسلی دے رہی ہو۔سبیکا شیخ کا شیلف کتابوں سے بھرا پڑا ہے۔

(جاری ہے)

جس میں برطانوی ناول نگار رولڈ ڈال اور افغان امریکن ناول نگار خالد حسین کی تصانیف شامل ہیں۔سبیکا شیخ کی والدہ کے بقول سبیکا شیخ کو کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔اور سبیکا کو امریکی تاریخ بہت پسند تھی۔کیونکہ یہ سیکھنے کے لیے بہترین ہے۔جب کہ سبیکا نے کری ایٹو رائٹنگ( تخلیقی تحریر) پر ایوارڈ بھی جیت رکھا تھا۔یاد رہے کہ سبیکا عزیز شیخ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کینیڈی لوگریوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی اسکالر شپ پروگرام کے تحت گزشتہ برس 21 اگست کو 10 ماہ کے لیے امریکہ گئی تھی،اور 9 جون کو سبیکا شیخ کو پاکستان واپس آنا تھا۔

وہ ٹیکساس کے شہر سانتافی کے ایک ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھیں۔یہاں سبیکا اسکول کے ہی ایک طالب علم کی فائرنگ سے چل بسی۔۔فائرنگ کے نتیجے میں 9 طالب علموں اور ایک استاد سمیت 10 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے تھے۔۔فائرنگ کرنے والے طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا تھا جو اسی اسکول کا طالب علم تھا۔