مقبوضہ کشمیر، میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی برسی کے موقع پر مکمل ہڑتال، سرینگر میں کرفیو جیسی پابندیاںنافذ

پیر مئی 11:50

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں ممتاز آزادی پسند رہنمائوں میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی برسیوں کے موقع پر پیر کو مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے مزار شہداء عید گاہ سرینگر کی طرف مارچ کوناکام بنانے کیلئے سخت پابندیاں عائد کردیں۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ہڑتال اور مارچ کی کال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے شہید رہنمائوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے دی ہے۔

تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل ہے۔ کشمیر یونیورسٹی اوراسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ نے تمام امتحانات ملتوی کردیئے ہیں، بارہمولہ سے بانہال تک ریل سروس بھی معطل ہے۔

(جاری ہے)

کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کو مارچ سے روکنے کیلئے سرینگر شہر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات کر رکھی ہے اورکرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں۔

عوامی مجلس عمل کے دفتر کی طرف جانیوالے تمام راستیں بند ہیں جبکہ شہر کے تمام داخلی اور خارجی مقامات کی ناکہ بندی کی گئی ہے اور لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجاز ت نہیں ہے ۔ بھارتی فورسز کی گاڑیاں شہر میںگشت کر رہی ہیں جبکہ جگہ جگہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ خار دار تاریںبچھا دی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی،، میر واعظ عمر فاروق،، محمد یاسین ملک،محمد اشرف صحرائی اور دیگرکو گھروں یا جیلوں میں نظر بند رکھا۔

یاد رہے کہ میر واعظ مولوی محمد فاروق کو21مئی1990 ء کو نامعلوم مسلح افراد نے سرینگر میں انکی رہائش گاہ میں گھس کر گولی مار دی تھی جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ بھارتی فوجیوں نے اسی دن سرینگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 70 سوگواروں کو قتل کر دیا تھا۔ خواجہ عبدالغنی لون کو 21 مئی2002ء کو نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت شہید کر دیا تھاجب وہ مزار شہداء سرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد واپس آرہے تھے۔