پاکستان کا عالمی تنازعات کے حل کیلئے اقوام متحدہ کے قیام امن مینڈیٹ میں تبدیلیوں کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا اقوام متحدہ میں اجلاس سے خطاب

پیر مئی 11:50

اقوام متحدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) پاکستان نے عالمی تنازعات کے حل کے لئے اقوام متحدہ کے قیام امن مینڈیٹ میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے عالمی ادارے کے ہیڈ کوارٹر نیو یارک میں ایک اجلاس سے خطاب میں کیا۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اجلاس میں اقوام متحدہ کے قیام امن مشنز کیلئے فوجی اور پولیس اہلکاروں کے دستے فراہم کرنے والے ممالک کے گروپ کی چیئر پرسن کی حیثیت سے شرکت کی۔

اجلاس میں شریک ممالک کے مندوبین نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے اقدامات کو مزید مستحکم اور محفوظ تر بنانے کیلئے بھرپور تعاون اور حمایت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ پیس کیپرز کے میندیٹ میں تبدیلیاں لاتے ہوئے عالمی تنازعات کا سیاسی حل تلاش کرنے پر زیادہ توجہ دی جائے لیکن اس عمل میں بدلتے سیاسی اور زمینی حقائق کو اپناتے وقت قیام امن کے بنیادی اصولوں کو پوری طرح برقرار رکھا جائے۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کو امن مشنز کے لئے افرادی قوت فراہم کرنے والے ممالک کا گروپ گذشتہ سال پاکستان اور مراکش کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد متعلقہ ممالک کے درمیان اس حوالے سے تبادلہ خیال اور عالمی امن و سلامتی کے حوالہ سے درپییش چیلنجز پر غور و فکر کرنا ہے۔ اجلاس میں بنگلہ دیش،، برکینا فاسو، کیمرون، گھانا، نائجر، سینیگال، تنزانیہ، جنوبی افریقہ اور مصر کے مندوبین کے ساتھ ساتھ چین،، برازیل، روانڈا، چاڈ، نائیجیریا، انڈونیشیا، یوروگوائے، اٹلی اور ٹوگو سے ماہرین اور سینیئر نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستانی مندوب نے اس موقع پر بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوترش نے امن مشنز کو زیادہ مستحکم اور محفوظ بنانے کیلئے اپنے ایکشن فار پیس کیپنگ انیشی ایٹو کو ستمبر میں منعقد ہونے والے جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس انیشی ایٹو میں مسلح تنازعات میں شہریوں کی جانوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے، امن مشنز کے مینڈیٹ کو حقیقت پسندانہ بنانے، سیاسی عزم ، قیادت ، کارکردگی اور احتساب، وافر وسائل کی فراہمی، پالیسی، منصوبہ بندی اور آپریشنل گائیڈلائنز، مناسب تربیت، موثر کردار، قیام امن میں علاقائی اور مقامی تنظیموں کا کردار اور تنازعات کے پرامن حل جیسے امور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں امن مشنز کے لئے افرادی قوت فراہم کرنے والے ممالک اقوام متحدہ کو بھرپور تعاون و حمایت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ اس موقع پر ڈی پی کے او کے انڈر سیکرٹری جنرل جین پیری لیکروئکس اور انڈر سیکرٹری جنرل آف دی ڈیپارٹمنٹ آف فیلڈ سپورٹ اٹل کھارے نے بھی خطاب کیا۔