تنخواہوں کی عدم ادائیگی،

اقتصادی تباہ کاریاں، 60 لاکھ یمنی بدترین غربت سے دوچار سرکاری ملازمین کو 19 ماہ سے تن خواہیں ادا نہ کی جاسکیں، شہریوں کی معاشی مشکلات میں بے پناہ اضافہ

پیر مئی 12:06

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) ایک اقتصادی رپورٹ میں جنگ سے تباہ حال یمن کے بارے میں لرزہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو 19 ماہ سے تن خواہیں ادا نہیں کی جاسکی ہیں جس کے نتیجے میں ساٹھ لاکھ افراد بدترین غربت سے دوچار ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقتصادی ابلاغیات اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں شہریوں کو غربت سے بچانے کے لیے سرکاری ملازمین کو فوری تنخواہیں ادا کرنے اور تعلیم وصحت کے شعبوں میں شہریوں کی خصوصی مدد کی اپیل کی گئی ۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خانہ جنگی کے نتیجے میں یمن میں فی کس ماہانہ آمدن 45 ڈالر سے بھی کم پر آ گئی ہے۔۔یمن میں ابتر معاشی حالات سے متعلق یہ اعدادو شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ماہ صیام جاری ہے۔

(جاری ہے)

رمضان المبارک کے دوران شہریوں کی ضروریات پہلے کی نسبت مزید بڑھ جاتی ہیں۔گزشتہ برس کی نسبت رواں سال ماہانہ اوسط آمدن 95 ڈالر سے کم ہو کر 43 ڈالر پرآگئی ہے جب کہ خانہ جنگی سے قبل اوسط آمدن 143 ڈالر تھی۔ فی کس آمدن میں کمی نے شہریوں کی معاشی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔باغیوں کے زیرتسلط علاقوں میں سرکاری ملازمین اور ان کے کنبے بدترین غربت کا شکار ہیں جب کہ آئینی حکومت کے زیرکنٹرول علاقوں میں ملازمین کو معمول کے مطابق تنخواہیں مل رہی ہیں۔