کپاس کی کاشت کیلئے سفارش کردہ اقسام کا تندرست اور بیماریوں سے پاک بیج استعمال کریں، محکمہ زراعت

پیر مئی 12:57

لاہور۔21 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کاشتکار کپاس کی کاشت کے لئے محکمہ زراعت پنجاب کی سفارش کردہ اقسام کا معیاری، تندرست، خالص اور بیماریوں سے پاک بیج استعمال کریں اور کپاس کی کاشت 31 مئی تک مکمل کر لیں۔ تصدیق شدہ معیاری بیج پنجاب سیڈ کارپوریشن کے علاوہ رجسٹرڈ پرائیویٹ اداروں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

75 فیصد یا زیادہ اگائو والا بُر اترا ہوا 6 کلو گرام جبکہ بُردار 8 کلو گرام اور 60 فیصد اگائو والا بُر اترا ہوا 8 کلو گرام جبکہ بُردار 10 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔ کھیلیوں پر کاشت کے لئے 6 تا 8 کلو گرام بیج فی ایکڑ (3 سے 4 بیج فی چوپا) استعمال کریں۔ ضرورت سے 10 فیصد زیادہ بیج کا انتظام کریں تاکہ اگر کسی وجہ سے دوبارہ بوائی کرنی پڑے تو بیج دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ پیدانہ ہو۔

(جاری ہے)

پودوں کی پوری تعداد فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کی ضمانت ہے۔کپاس کی بہتر پیداوار کے لئے پودے سے پودے کا فاصلہ 9سے 12انچ رکھیں۔ کپاس کی کاشت کے لئے 17500سے 23000فی ایکڑ پودوں کی تعداد یقینی بنائیں۔پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں تھوڑے وقت میں زیادہ رقبہ پر کپاس کی کاشت کی جا سکتی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ کپاس کی اچھی پیداوار کے لئے ایسی زرخیز میرا زمین بہتر رہتی ہے جو تیاری کے بعد بھربھری اور دانے دار ہو جائے۔

اس میں نامیاتی مادہ کی مقداربہترہو، پانی زیادہ جذب کرنے اور دیر تک وتر قائم رکھنے کی صلاحیت بھی موجودہو۔ زمین کی نچلی سطح سخت نہ ہو تا کہ پودے کی جڑوں کو نیچے اوراطراف میں پھیلنے میں دشواری نہ آئے۔ اس لیے زمین کی تیا ر ی کے لئے گہر ا ہل چلائیں اور زمین کی ہمواری بذریعہ لیزر لیولر کریں تا کہ پودے کی جڑ یںآ سا نی سے گہرا ئی تک جا سکیںاور وتر دیر تک قائم رہے ۔پچھلی فصلوںکی باقیات کو جلانے کی بجائے انہیں اچھی طرح زمین میں ملانا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے روٹا ویٹر، ڈسک ہیرو یا مٹی پلٹنے والا ہل استعمال کریں تاکہ بوائی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے ۔

متعلقہ عنوان :