معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کی سابق وزیراعظم نواز شریف کے گھرآمد

مولانا طارق جمیل نے خود ہی میڈیا بات کر کے دورے کی وضاحت کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 12:49

معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کی سابق وزیراعظم نواز شریف کے گھرآمد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 مئی 2018ء) : معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل سابق وزیراعظم نواز شریف کے گھر آئے جس پر میڈیا نمائندوں نے ان کی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا۔ مولانا طارق جمیل نے میڈیا کو دیکھ کر گاڑی رکوائی اور گاڑی میں ہی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو جو میں کہوں گا وہ سارا چلانا ہے، انہوں نے کہا کہ کچھ ماہ قبل میں جاتی امرا میاں نواز شریف کی اہلیہ کا حال پوچھنے گیا تھا ، میں جب وہاں سے نکلا تو مجھے جلدی تھی لہٰذا میں ایسے رُکا نہیں اور نہ ہی میڈیا کو بلایا۔

کسی نے خبر چلائی کہ تعویز دینے گئے، کسی نے خبر چلائی کہ وظیفہ بتانے گئے، ایک ٹی وی چینل نے خبر چلائی کہ سب سے پہلے ہم آپ کو خبر دے رہے ہیں کہ مولانا طارق جمیل نواز شریف کو حکومت بچانے کا وظیفہ دینےگئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں آج بھی میڈیا کو دیکھ کر ڈر گیا کہ کوئی خبر ہی نہ چلا دیں، میں اس دن میاں صاحب کی اہلیہ کی عیادت کے لیے گیا تھا اور آج میں میاں صاحب کی عیادت کے لیے آیا تھا، اللہ کا فضل ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بادشاہوں کے پاس لے جاتا ہے، میں نے تب چائے کی پیالی پی تھی ، چائے کے علاوہ میں کسی چیز کا روادار نہیں ہوں، میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو شدت پسندی آئی ہوئی ہے، اس پر میں تمام علما ، تمام مکاتب فکر کے علما کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ لوگوں میں محبت کا درس دیں، نفرت اور فرقہ واریت کی تقاریر اور ایک دوسرے کو کافر کافر کہنے کی تقاریر سے پرہیز کریں، اور اُمت کو اُمت کو بنائیں،اختلاف رائے کے باوجود آپس میں محبت سے رہنا میرے نبی ﷺ کا فرمان ہے۔

میرے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کا سب سے مضبوط عمل کیا ہے؟ تو صحابہ نے عرض کی نماز ، آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، پھر صحابہ نے عرض کیا جہاد ۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، پھر صحابہ نے عرض کیا روزہ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا نے نہیں ، پھر صحابہ نے عرض کیا حج ، آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، پھر صحابہ نے عرض کی کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول ﷺ جانے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کا سب سے مضبوط عمل اللہ کے لیے محبت کرنا ہے۔

مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میں آپ سب کے ذریعے سے یہ پیغام پہنچا دینا چاہتا ہوں کہ اس شدت پسندی کو صرف علما ہی عوام سے دور کر سکتے ہیں، مثبت تقاریر اور مثبت پیغام رسانی سے کہ ہم شیعہ ہیں ، ہم سنی ہیں، دیو بندی ہیں، بریلوی ہیں، وہابی ہیں، لیکن ہم ایک اُمت بن کر چلیں ، اس میں ہم سب کی محبت ہے، اور آپ سب کو بھی کہتا ہوں کہ اپنے میڈیا کو سچ پر لاؤ جھوٹ پر مت لاؤ۔ کیونکہ مسلمان سچ بولتا ہے جھوٹ نہیں بولتا۔