یمنی حوثی کمانڈر نے صعدہ میں اپنی ہی کم سن بیٹی کو انسانی ڈھال بنا لیا

عرب اتحاد نے اسلحے سے لدی گاڑی سے بچی بازیاب کر کے یمنی حکومت کے حوالے کردی

پیر مئی 13:25

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ ایک چار سالہ کم سن بچی کو یمنی حکومت کے حوالے کردیا گیا ہے۔ عرب اتحاد نے اس بچی کو حوثی شیعہ باغیوں کی اسلحے سے لدی ایک گاڑی سے برآمد کیا ہے اور وہ اس کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ اس بچی کا نام جمیلہ ہے اور اس کو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی ،،سعودی انجمن ہلال احمر اور ہیومن رائٹس کمیشن کے نمائندوں اور عرب اتحاد کی قیادت میں مسلح تنازعات میں بچوں کے تحفظ کے یونٹ کے سربراہ کی موجودگی میں یمنی حکومت کے حوالے کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یمنی فوج نے اس بچی کے باپ حوثی ملیشیا کے ایک کمانڈر کو صعدہ کو آزاد کرانے کی کارروائی کے دوران میں گرفتار کر لیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ بچی حوثی ملیشیا کے ایک کمانڈر کی گاڑی سے ملی تھی ۔اس وقت اس نے لڑکوں ایسا لباس پہن رکھا تھا۔اس کمانڈر کی گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ملا تھا۔یمنی فوجیوں نے اس بچی کی گاڑی میں موجودگی کا پتا چلنے کے بعد احتیاطی تدابیر اختیار کی تھیں تاکہ اس کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

جب اس گاڑی میں سوار کمانڈر کو یمنی فوجیوں نے گرفتار کر لیا تو پتا چلا کہ وہ اس بچی کا باپ ہے اور وہ اس کو میدان جنگ میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کی اس طرح کی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں ۔انھوں نے مزید بتایا کہ اس بچی اور اس کے خاندان کو مالی امداد بھی دی گئی ہے۔