چترال یونیورسٹی میں الیکشن 2018کے حوالے سے سیمینارکاانعقاد

پیر مئی 13:30

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) چترال یونیورسٹی کے زیر اہتمام پولیٹکل پارٹی منشور برائے الیکشن 2018اور چترال کی ترقی کے موضوع پر چترال یونیورسٹی میں ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا۔جس کے مہمان خصوصی چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری تھے۔ سیمینار میں جے یو آئی ، پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف اورجماعت اسلامی کے ضلعی سربراہان نے شرکت کی۔

اس موقع پر پی پی پی کے عالمزیب ایڈووکیٹ نے اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اٴْنہوں نے اس ملک کو 1973ء کا متفقہ اسلامی آئین دیا۔ خوشحال پاکستان کا منشوردیا۔ پی پی پی نے چترال میں سب سے پہلے نوجوانوںکیلئے ڈگری کالج اور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی جبکہ صحت کے شعبے میں ڈی ایچ کیوہسپتال اور دیگر ہسپتال قائم کئے۔

(جاری ہے)

پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر عبد اللطیف نے خطاب میں کہا کہ معیاری تعلیم ہماری پہلی ترجیح ہے۔جس کا ثبوت چترال یونیورسٹی کا قیام ہے۔صوبائی حکومت نے تعلیمی بجٹ میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔۔جماعت اسلامی کے امیر مولانا جمشید نے کہا کہ ہمارا منشور وہی ہے جو آقائے نامدار حضرت محمد مصطفٰی نے چودہ سو سال پہلے پیش کیا تھا۔اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام، بر سر اقتدار آکر ملک میں عادلانہ نظام نافذ کریں گے جس میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو گی۔

جے یوآئی کے مولانا حسین احمد نے کہا کہ روئے زمین پر بسنے والا انسان اللہ کا خلیفہ ہے۔اللہ کا دیا ہوا نظام ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹکل سائنس کے پروفیسر بشارت نے کہا کہ چترال اب تک ترقی کی مناسب منزلیں طے نہ کر سکا۔چترال اپنے جعرافیائی لحاظ سے اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے کہ ہم سوشل اکنامک ڈویلپمنٹ پروگرام کے زریعے ہم چترال کی ترقی کیلئے بہت جلد ترقیاتی انقلاب لائیں گے۔