محکمہ برقیات کے منصوبہ جات کے لیے کل 1ارب 19کروڑروپے رکھے گئے ہیں

پیر مئی 13:30

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) آزادکشمیر کے وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ مالی سال2017-18ء کے نظرثانی ترقیاتی میزانیہ میں محکمہ برقیات کے منصوبہ جات کے لیے کل 1ارب 19کروڑروپے رکھے گئے ہیں۔ان فنڈزکے خلاف مجموعی طورپر9457ا یچ۔ٹی،ایل۔ٹی پولز ،1329ٹرانسفارمرز کی تنصیب اور 20ہزارسے زائد بجلی کے کنکشن کی فراہمی کے اہداف مکمل کئے جارہے ہیں جس سے آزاد کشمیر میں تقریباً 1لاکھ 40ہزارکی بقیہ آبادی بجلی کی فراہمی سے مستفید ہوگی۔

اس طرح آزاد کشمیر بھر میں مجموعی طور پر تقریباً 94فیصد صارفین کو بجلی کے کنکشن دستیاب ہوں گے ۔ آزاد کشمیربھر میں موجودہ نصب شدہ بجلی کے سسٹم میں بہتری، مرمتی اور بحالی کیلئے 1ارب 1کروڑ 66لاکھ 26ہزار روپے کی مالیت سے سرکل وائز منصوبہ جات پر عملدرآمد شروع کیا گیا ہے اوررواں مالی سال میں اس پروگرام کے تحت 24کروڑ 64لاکھ مالیت کا کام مکمل کیا جا رہاہے۔

(جاری ہے)

مالی سال2018-19ء کے ترقیاتی میزانیہ میں محکمہ برقیات کے لیے ایک ارب 9کروڑ روپے کے فنڈز رکھے جانے کی تجویز ہے۔آئندہ مالی سال کے دوران جاریہ منصوبہ جات پر عملدرآمد سی6040 ایچ۔ٹی اور ایل۔ٹی پولز کی لگائے جانے کے علاوہ 13 ہزار نئے کنکشن فراہم کئے جائیں گے جس سے آزاد کشمیر کی 91ہزار بقیہ آبادی بجلی کی سہولت سے مستفید ہو گی ۔ موجودہ حکومت نے بطور خاص عوام کی سہولت کیلئے ’’وزیراعظم کمیونٹی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پروگرام‘‘ کوآئندہ مالی سال بھی جاری رکھے جانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے 19کروڑ روپے کی لاگت سے آزاد کشمیر بھر میں تقریبا 425ٹرانسفار مرز دیئے جانے کی تجویز ہے جبکہ اسکے علاوہ مزید200 ٹرانسفارمرزدیگر منصوبہ جات کے تحت مہیا کئے جائیں گے۔

اسطرح مالی سال 2018-19 میں آزاد کشمیر بھر میں مجموعی طور پر کل 625ٹرانسفارمرز نصب کئے جائیں گے تاکہ عوام کو بجلی کی بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ مالی سال 2018-19ء میں ایسے منصوبہ جات شامل کئے جا رہے ہیں جن کے تحت آزاد کشمیر بھر میں کسٹمرسروسز کو آن لائن کیا جائے گا جس سے صارفین کی شکایات کا بروقت ازالہ ممکن ہوسکے گا۔ علاوہ ازیںجی پی ایس سسٹم کے ذریعہ میٹر ریڈنگ /بلنگ کی تجویزہے جس سے صارفین کی غلط ریڈنگ/بلنگ کی شکایات ختم ہوجائیں گی۔

اس کے علاوہ 132 KV گریڈ اسٹیشنز کو محکمہ برقیات کے زیر انتظام لانے کیلئے بھی 4کروڑ 50لاکھ روپے کی مالیت سے ایک پراجیکٹ رکھے جانے کی تجویز ہے ۔ مزید برآں سماہنی، سہنسہ اور فارورڈ کہوٹہ (حویلی) میں بجلی کی بہتر ترسیل کیلئے گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر کیلئے فزیبلٹی سٹڈی کیلئے بھی فنڈز رکھے جانے کی تجویز ہے ۔اس کے علاوہ شہری علاقوں میں محکمہ برقیات کے موجودہ ترسیلی نظام میں بہتری کے لئے منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔ نیزآئندہ مالی سال میںٹرانسفارمرز کی مرمتی کیلئے بھی 5ورکشاپس تعمیر کئے جانے کی تجویز ہے جن میں ہٹیاں بالا ، فارورڈ کہوٹہ (حویلی)، ہجیرہ ، کھوئی رٹہ اور چکسواری شامل ہیں۔