نگران وزیر اعظم کا معاملہ ، خورشید شاہ نے نام وزیر اعظم کو دے دئے

پیپلز پارٹی کی جانب سے ذکا اشرف اور جلیل عباس کے نام تجویز

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 14:03

نگران وزیر اعظم کا معاملہ ، خورشید شاہ نے نام وزیر اعظم کو دے دئے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 مئی 2018ء) : نگران وزیر اعظم کے معاملے پر تاحال حکومت کی جانب سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے نگران وزیر اعظم کے لیے نام وزیر اعظم کو دے دئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ نے پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز کردہ نگران وزیراعظم کے لیے دو نام وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو دے دئے، پیپلز پارٹی نے ذکا اشرف اور جلیل عباس کو نگران وزیر اعظم کے عہدے کے لیے تجویز کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے دونوں اُمیدواروں کو الگ الگ ٹیلی فون کیا۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ محنت اور ایمانداری کی بنیاد پر آپ کا نام تجویز کیا ہے، معیشت، بنکنگ اور انتظامی امور میں آپ کی کافی خدمات ہیں، اُمید ہے کہ اگر آپ کی زیر نگرانی انتخابات ہوئے تو کیس کو کوئی شکایت نہیں ہو گی۔

(جاری ہے)

میڈیا ذرائع کے مطابق نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے تجویز کردہ نام آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے فائنل کیے۔

دوسری جانب حکومت ختم ہونے میں کچھ ہی دن باقی ہیں اور تاحال حکومت نگران وزیر اعظم کا نام فائنل نہیں کر سکی۔ حکومت کی جانب سے نام فائنل نہ ہونے پر سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا تھا کہ نگران وزیراعظم کے لیے قائدایوان اور قائدحزب اختلاف میں حتمی ملاقات منگل کوہوگی۔

انہوں نے کہا کہ خدا کرے کہ اتفاق رائے سے نگران وزیراعظم کا انتخاب ہو۔ ہفتہ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر سردارایاز صادق کا کہناتھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا ،قومی معاملات اتفاق رائے سے حل ہوں تو بہتر ہیں ، انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ فیصلہ الیکشن کمیشن کوہی کرنا پڑے گا،نگران وزیراعظم کاانتخاب مل کرنہیں کرسکتے توقومی فیصلے کیا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حالات اس نہج تک پہنچانے میں سیاستدان بھی شریک ہیں، حکومتی فیصلہ ووٹوں سے ہونا ہے،،ایاز صادق نے کہا کہ انتخابات جمہوری مستقبل کے حوالے سے اہم ہیں ،غیریقینی صورتحال سے نجات آزادانہ اورشفاف انتخابات سے ہی ممکن ہے،ان کا کہناتھاکہ انتخابات شفاف نہ ہوئے تو پھرسوالات اٹھیں گے،،پاکستان کسی قسم کے تناوکا متحمل نہیں ہوسکتا۔