مقبوضہ کشمیر: آزادی پسند رہنمائوں کی برسیوں کے موقع پر مکمل ہڑتال،سرینگر میں کرفیو

بھارتی فورسز نے تمام داخلی اور خارجی مقامات کی ناکہ بندی کر دی

پیر مئی 14:59

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں ممتاز آزادی پسند رہنمائوں میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی برسیوں کے موقع پر آج مکمل ہڑتال ہے جبکہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے مزار شہداء عید گاہ سرینگر کی طرف مارچ کوناکام بنانے کیلئے سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق ہڑتال اور مارچ کی کال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے شہید رہنمائوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے دی ہے۔

تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل ہے۔ کشمیر یونیورسٹی اوراسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ نے آج منعقد ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کردیئے ہیں۔بارہمولہ سے بانہال تک ریل سروس بھی معطل ہے۔

(جاری ہے)

کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کو مارچ سے روکنے کیلئے سرینگر شہر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات کر رکھی ہے اورکرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں۔

عوامی مجلس عمل کے دفتر کی طرف جانیوالے تمام راستیں بند ہیں جبکہ شہر کے تمام داخلی اور خارجی مقامات کی ناکہ بندی کی گئی ہے اور لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجاز ت نہیں ہے ۔ بھارتی فورسز کی گاڑیاں شہر میںگشت کر رہی ہیں جبکہ جگہ جگہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ خار دار تاریںبچھا دی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی،، میر واعظ عمر فاروق،، محمد یاسین ملک،محمد اشرف صحرائی اور دیگرکو گھروں یا جیلوں میں نظر بند رکھا۔

یا د رہے کہ میر واعظ مولوی محمد فاروق کو 21مئی 1990 کو نامعلوم مسلح افراد نے سرینگر میں انکی رہائش گاہ میں گھس کر گولی مار دی تھی جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ بھارتی فوجیوں نے اسی دن سرینگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 70 سوگواروں کو قتل کر دیا تھا۔ خواجہ عبدالغنی لون کو 21مئی 2002 کو نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت شہید کر دیا تھاجب وہ مزار شہداء سرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد واپس آرہے تھے۔