ری برانڈنگ کا مقصد سروسز کے معیار اور صارفین کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہے،

قومی اسمبلی سے ریگولیٹری فریم ورک بل کی منظوری سے سرکاری اور نجی کوریئر کو ریگولیٹ کیا جا سکے گا یو ایم ایس سروس کے ذریعے صرف 40 روپے میں ملک کے کسی بھی حصہ میں فوری نوعیت کی سروس میسر آئے گی ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں کامیابی کے بعد سیم ڈے ڈلیوری سروس جلد لاہور میں متعارف کرائی جائے گی وفاقی سیکرٹری پوسٹل سروسز ڈاکٹر ثاقب عزیز کی جی پی او اسلام آباد کی ری برانڈنگ کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں کو بریفنگ

پیر مئی 15:52

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) وفاقی سیکرٹری پوسٹل سروسز ڈاکٹر ثاقب عزیز نے کہا ہے کہ ری برانڈنگ کا مقصد سروسز کے معیار اور صارفین کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہے، قومی اسمبلی سے ریگولیٹری فریم ورک بل کی منظوری سے سرکاری اور نجی کوریئر کو ریگولیٹ کیا جا سکے گا ، پاکستان پوسٹ پبلک پرائیویٹ کمپنی نہیں ایک سرکاری ادارہ ہے، اس کی نجکاری نہیں کی جا سکتی، جائنٹ وینچر سے کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جی پی او اسلام آباد کی ری برانڈنگ کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں کو بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری نے ری برانڈنگ کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا اور عملہ کو ہدایت کی کہ خوشگوار ماحول میں کام کرتے ہوئے صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ مرحلہ وار ڈاکخانہ جات کی ری برانڈنگ کی طرف جا رہے ہیں اور ملک بھر کے 12 ہزار ڈاکخانہ جات کو مرحلہ وار ری برانڈ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ ڈاک میں اصلاحات پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت محکمہ کی سروسز کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانا اور محکمہ کو منافع بخش ادارہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2018-19ء کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 550 ڈاکخانوں کی تزئین و آرائش پر 370 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو ایم ایس سروس کے ذریعے صرف 40 روپے میں ملک کے کسی بھی حصہ میں فوری نوعیت کی سروس میسر آئے گی جبکہ سیم ڈے ڈلیوری سروس کی راولپنڈی اور اسلام آباد میں کامیابی کے بعد اب یہ سروس لاہور میں جلد متعارف کرانے جا رہے ہیں، پاکستان پوسٹ کے سالانہ محصولات 11 ارب روپے ہیں، محکمہ کے خسارے کی وجہ سے ارزاں نرخوں پر ڈاک کی ترسیل ہے، سروس کے معیار کو بہتر سے بہتر بنایا جائے گا۔