کراچی کی عدالت میں کتے کے اغوا اوربلی کے قتل کے مقدمے کی سماعت

کتے اوربلی کی مالکن نے اپنے چوکیدار اور گھریلو ملازمہ پر مقدمہ درج کرایا تھا

پیر مئی 16:02

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) پالتو کتے کے اغوا اوربلی کے قتل کے مقدمے میں مالکن کو انصاف نہ مل سکا جبکہ پولیس نے ملزمان کوگرفتار کرنے میں ناکامی کے بعد مقدمہ ہی اے کلاس قراردے دیاہے۔پیرکوسٹی کورٹ میں جوڈیشل میجسٹریٹ کراچی جنوبی کی عدالت میں پالتوکتے کے اغوا اوربلی کو زہردے کرہلاک کرنے کی کوشش سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

تفتیشی افسر نے مقدمہ اے کلاس کی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایاکہ اس وقت کتا اغوا اوربلی اسپتال میں زیرعلاج ہے، مقدمے میں نہ کوئی گواہ ہے نہ ہی کوئی ثبوت ہے، ایک شہری کو حراست میں لے کرعدم شواہد کے باعث چھوڑ دیا گیا، ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاہم کیس کو اے کلاس کیا جائے۔واضح رہے کہ فرحت جمیل نامی خاتون نے گزری پولیس اسٹیشن میں اپنے چوکیدارعمر دراز خان اور گھریلو ملازمہ رقیہ کے خلاف رپورٹ درج کرائی تھی کہ عمردراز اور رقیہ نے میری پالتو بلی کو زہردیا، چوکیدار میرے کتے کو گھر سے باہر لے کر گیا جوچھین لیا گیا، چوکیدار اور ماسی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔