چین امریکہ سے مزید اشیاء اور خدمات درآمد کرنے پر رضا مند

دونوں ممالک نے تجارتی عدم توازن اور جنگ کا خوف کم کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا

پیر مئی 17:02

چین امریکہ سے مزید اشیاء اور خدمات درآمد کرنے پر رضا مند
بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) چین نے امریکہ سے مزید اشیاء اور خدمات درآمد کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے دونوں ممالک نے تجارتی عدم توازن اور تجارتی جنگ کا خوف کم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے،تاہم واشنگٹن نے یہ نہیں بتایا کہ چین مزید کس قدر اشیاء خریدنے پر رضا مند ہوا ہے تاہم اس مہم کا مقصد بیجنگ کے ساتھ امریکہ کا 335ارب سالانہ تجارتی خسارے کا معاملہ ہے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک عرصے سے اس پر تنقید کرتے چلے آ رہے ہیں جیسے وہ امریکی دانش،خصوصاً ٹیکنالوجی اور جملہ حقوق کی چینی کمپنیوں کی جانب سے چوری قرار دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

چونچہ اس سال کے آغا زمیں امریکی انتظامیہ نے چین سے درآمد ہونے والے سٹیل اور ایلومنیم پر درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا،تاہم اب دونوں ممالک کی طرف سے تجارتی جنگ کا خوف کم ہونے کے بعد چین اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ مفاد کا فیصلہ ایک اچھی مثال ہے جس سے امریکہ کو اپنا تجارتی خسارہ کم کرنے کا موقع ملے گا۔فریقین اب دوطرفہ سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے اچھا ماحول اور مقابلے کے لیے برابر کے مواقع پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔