مقبوضہ کشمیر، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نریندر مودی کے کشمیرکی ترقی بارے بیان کو مسترد کردیا

تنازعہ کشمیر انتظامی نہیں ،لاکھوں کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، مسلم لیگ

پیر مئی 17:03

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کو سختی سے مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے ترقی کو تنازعہ کشمیر کا واحد حل قراردیا تھا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بار ایسوسی ایشن نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ اگرچہ ترقی ایک ناقابل تنسیخ انسانی حق ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 4دسمبر 1986ء کے اعلامیے سمیت عالمی معاہدوں میں دی گئی ہے لیکن جب لوگوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھا جارہا ہو اور انہیں ہراساں کیا جارہاہو، ان کی بینائی چھینی اور معصوم لوگوں کو قتل کیا جارہا ہواور لوگوں کے شہری اور سیاسی حقوق کو جان بوجھ کر پامال کیا جارہا ہو،ہزاروں افراد کوبغیر کسی مقدمے کے جیلوں میں نظربند کیا جارہا ہے، تو اس صورتحال میں ترقی کا نعرہ محض فریب کاری ہے جس سے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

(جاری ہے)

دریں اثناء جموں وکشمیرمسلم لیگ کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ تنازعہ کشمیر سڑکوں، بجلی کے منصوبوں یا روزگار سے متعلق کوئی انتظامی مسئلہ نہیں جس کو ترقی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ لاکھوں کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے اور اس کوکشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے کہاکہ تنازعہ کشمیر کا ٹنل اور ٹرین کے افتتاح یا ترقی کے نام پر اقتصادی پیکج سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ چیزیں 1947ء سے ہوتی آرہی ہیںلیکن ان اقدامات سے تنازعہ کشمیر کی بنیادی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکا۔ ادھر تحریک مزاحمت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں سوپور میں نہتے مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کو ریاستی دہشت گردی قراردیا ہے جس کے نتیجے میں ایک 9سال کا بچہ رضوان احمد کبو شدید زخمی ہوا تھا۔ انہوں نے زخمی بچے کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا اسے قاتل بھارتی فورسز کی بوکھلاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔