تلوں کی کھلی دودھ، گوشت اور انڈے دینے والے جانوروں کیلئے بہترین غذا ہے،محکمہ زراعت

پیر مئی 17:12

لاہور۔21 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) تل صوبہ پنجاب کی سرسوں اور رایا کے بعد تیلدار اجناس میں سب سے زیادہ رقبہ پر کاشت کی جانے والی منافع بخش اور نقد آور فصل ہے۔ تل کے بیج میں 50 فیصد سے زیادہ اعلیٰ خصوصیات کا حامل خودرنی تیل اور 22 فیصد اچھی قسم کی پروٹین ہوتی ہے اس لئے تلوں کی کھلی دودھ، گوشت اور انڈے دینے والے جانوروں کے لئے بہترین غذا ہے۔

محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہا ہے کہ تل کی فصل سے بہتر پیداوار کے حصول کیلئے اس کی منظورشدہ اقسام ٹی ایچ 6 اور ٹی ایس 5 کاشت کریں۔ ٹی ایچ 6 تل کی بغیر شاخوں کے اور چھوٹے دورانیہ کی قسم ہے، یہ قسم بہترین پیداواری صلاحیت کی حامل ہونے کے علاوہ 110 دن میں پک کر تیار ہو جاتی ہے، بغیر شاخوں کے ہونے کی وجہ سے اس میںپودوں کا درمیانی فاصلہ 4 انچ رکھا جاتا ہے جبکہ تل کی اس قسم میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت موجود ہے۔

(جاری ہے)

اس کی اوسط پیداوار 8 سے 10 من فی ایکڑ ہے۔ ٹی ایس 5 تل کی روایتی شاخ دار قسم ہے، یہ قسم 120 سے 125 دن میں پک کر تیار ہوجاتی ہے۔ ٹی ایس 5 میں پودوں کا درمیانی فاصلہ 6 انچ رکھا جاتا ہے، اس قسم میں بیماریوں کے خلاف بہتر ین قوت مدافعت پائی جاتی ہے۔ اس کی اوسط پیداوار 8 سے 10 من فی ایکڑ ہے، تل کا بیج شعبہ تیلدار اجناس، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، فیصل آباد اور پنجاب سیڈ کارپوریشن کے دفاترسے میں دستیاب ہے، تل کی فصل کو صحیح وقت پر کاشت کرنا زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے، تاخیر سے کاشتہ شدہ فصل کی نہ صرف پیداوار کم ہو جاتی ہے بلکہ اس سے تیل بھی کم حاصل ہوتا ہے، تمام آبپاش اور بارانی علاقوں میں تل کی قسم ٹی ایچ 6 کا وقت کاشت 15 جون سے 30 جون جبکہ ٹی ایس 5 کا وقت کاشت 25 جون سے 15 جولائی تک ہے، بہتر پیداوار کے حصول کیلئے ڈیڑھ سے 2 کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں،درمیانی اور بھاری میرا زمین جس میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہو تل کی کاشت کیلئے موزوں ہے۔

متعلقہ عنوان :