خورشید شاہ نےعمران خا ن کا100روزہ پروگرام ناقابل عمل قراردیدیا

عمران خان کے100 دنوں میں وعدے پورے ہوگئےتو سیاست چھوڑدوںگا،ایک کروڑنوکریاں توکیاخیبرپختونخواہ میں 5 ہزارنوکریاں بھی نہ دے سکے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر مئی 16:45

خورشید شاہ نےعمران خا ن کا100روزہ پروگرام ناقابل عمل قراردیدیا
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 مئی 2018ء) : قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے عمران خا ن کے 100روزہ پروگرام کو ناقابل عمل قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے 100دنوں میں وعدے پورے ہوگئے تو سیاست چھوڑ دوں گا، ایک کروڑ نوکریاں توکیاخیبرپختونخواہ میں 5ہزار نوکریاں بھی نہ دے سکے۔ انہوں نے آج یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا حکومت ملنے کے بعد پہلے100دنوں کا پروگرام پری پول دھاندلی کی جانب اشارہ بھی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خا ن کے 100روزہ پروگرام کو ناقابل عمل قرار دیتا ہوں۔۔عمران خان کے پاس ایک صوبہ تھا ، انہوں نے وہاں کام کرکے کیوں نہیں دکھایا؟ عمران خان نے ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی لیکن اپنے صوبے میں 5ہزار نوکریاں بھی نہ دے سکے۔

(جاری ہے)

خیبرپختونخواہ کی حالت دیکھ لیں اور وہاں سکولوں کا حا ل دیکھ لیں۔۔خورشید شاہ نے کہا کہ کل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے صبح 11بجے ملاقات ہوگی۔

جس میں نگران وزیراعظم کے نام کو حتمی شکل دینے کیلئے مشاورت کی جائے گی۔ اگر متفقہ نگران وزیراعظم کے نام کا اعلان کل نہ کیا جاسکا توپھر نام فائنل کرنے کیلئے مزید دن بھی لگ سکتے ہیں۔انہوں نے ایک سوال ”احسن بھون جیسا سینئر وکیل نگران وزیراعظم ہوسکتا ہے؟“ کے جواب میں کہا کہ جی ہاں احسن بھون جیسا سینئر وکیل بھی نگران وزیراعظم ہوسکتا ہے۔

واضح رہے  تحریک انصاف نے گزشتہ روزاسلام آباد میں حکومت کے قیام کے بعد پہلے سو دن کا پلان جاری کردیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک وقت تھا پیپلزپارٹی وفاق کی جماعت تھی ن لیگ بھی پنجاب کے ایک حصے کی جماعت بن کر رہ گئی ہے تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو وفاق کی نمائندگی کرتی ہے ہم فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کریں گے بلوچستان کو احساس محرومی سے نکالیں گے بلوچستان کو مین اسٹریم میں لائیں گے پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کریں گے جنوبی پنجاب صوبہ بنائیں گے فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فاٹا کا پختونخوا میں انضمام فاٹا کے پختونخوا میں انضمام کیلئے قانون سازی جلدکی جائے گی فاٹا کی تعمیر و ترقی کیلئے ایک بڑے منصوبے (میگا پراجیکٹ) پلان کا آغاز کیا جائے گا اور فاٹا میں باقی تمام قوانین کو لاگو کرنیکا آغاز کیا جائیگا۔

بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہمارے منشور میں ہے کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سیاسی مفاہمت کی کوششیں شروع کی جائے گی اور اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت کو بااختیار بنایا جائے گا اس کے ساتھ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں خصوصاً گوادر میں جاری ترقیاتی عمل میں مقامی آبادی کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی انتظامی بنیادوں پر صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام جنوبی پنجاب میں بسنے والے تین کروڑ پچاس لاکھ لوگوں کو غربت کی دلدل سے نکالنے اور صوبوں کے مابین انتظامی توازن قائم کرنے کے بنیادی مقاصد کے تحت صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کیلئے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا کراچی کی بہتری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی کی بہتری کیلئے خصوصی منصوبہ لایا جائے گا جس میں بہتر انتظامات ، سیکیورٹی ، انفراسٹرکچر، گھروں کی تعمیر ، ٹرانسپورٹ کا نظام ،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور پینے کے صاف پانی جیسی سہولیات مہیا کی جائیں گی پاکستان کے غریب ترین اضلاع کیلئے غربت میں کمی کی تحریک کا آغازپنجاب، سندھ ، پختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ اور غریب ترین اضلاع سے غربت کے خاتمے کیلئے جاری کاوشوں کو تقویت دینے کیلئے خصوصی پلان تیار کیا جائے گا احتساب عمران خان کی حکومت کا اہم ستون ہوگا تحریک انصاف کی حکومت نیب کو مکمل خود مختاری دے گی بیرون ملک چوری شدہ قومی دولت واپس لانے خصؤصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی بازیاب کرائی گئی دولت قرضوں کی آدائیگیوں اور غربت میں کمی کیلئے استعمال کی جائے گی پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک اور با اختیار بنایا جائیگا زیر التوا مقدمات کے خاتمے کیلئے ہائی کورٹس کی مشاورت سے جوڈیشل ریفارمز پروگرامز لایا جائیگا بدھ کو فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا بل پیش ہوگابل تحریک انصاف کی سوچ کا عکاس ہوگاحکومت میں آنے کے بعد ایک میگا ڈیولپمنٹ پلان بنائیں گے ایف سی آر کو فاٹا سے ختم کریں گے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب 11 اضلاع پر مشتمل ہے جنوبی پنجاب کو خود مختار اکائی کا درجہ دیں گے مسلم لیگ ن کا یہ چھٹا اقتدار ہے ن لیگ نے وعدے کرکے وفا نہیں کیے یہاں غربت بہت ہے مجھے مسلم لیگ ن کی نیت پر شک ہے انہوں نے ہمیشہ دھوکہ دیاکراچی کے لئے پیکج دیا جائے گاکراچی میں ٹرانسپورٹ سسٹم بہتر کیا جائیگالوگوں کو سستے گھر دیے جائیں گے جرائم کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے شہر اقتدار میں گورننس کو بہتر بنائیں گے۔