سندھ اسمبلی، مالی سال 2018-19کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری

حکومتی ارکان کا اپنی تقاریر میں مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کی جانب سے ایوان میں جوتا دکھانے کے واقعہ کا بار بار تذکرہ ہم میں ہر کسی کی بات سننے کا حوصلہ موجود ہے افسوس اب تو کچھ لوگوں کو اب اپنی زبان پر اور پائوں پر بھی قابو نہیں رہا،سید قائم علی شاہ کا اظہار خیال

پیر مئی 17:15

سندھ اسمبلی، مالی سال 2018-19کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) سندھ اسمبلی میں پیر کوآٹھویں روز بھی مالی سال 2018-19کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری رہی جس کے دوران حکومتی ارکان نے اپوزیشن اور اس کی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور سرکاری ارکان نے اپنی تقاریر میں مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کی جانب سے ایوان میں جوتا دکھانے کے واقعہ کا بار بار تذکرہ کیا۔

سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم میں ہر کسی کی بات سننے کا حوصلہ موجود ہے لیکن افسوس کہ اب تو کچھ لوگوں کو اب اپنی زبان پر اور پائوں پر بھی قابو نہیں رہاسندھ کے سینئروزیر پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑوکا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو اسمبلی نے عزت دی وہ اسی اسمبلی کو جوتا دیکھا رہے ہیں، جوتا دکھانا ایک بہت ہی چھوٹی اور چھیچوری حرکت ہے۔

(جاری ہے)

پیر کو سندھ اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے ایوان میں بڑے جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھو ں لیا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی نے پاکستان بنانے کے حق میں قرارداد منظور کیا یہاںجو بھی بڑی تبدیلی آئی ہے وہ پیپلزپارٹی کی ہی مرہون منت ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے متعصبانہ رویہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2015میں ایک اور این ایف سی ایوارڈ آنا تھا چاہیے تھا لیکن سندھ کے لوگ آج تک اس کا انتظار کر رہے ہیں اور ہم نئے این ایف سی ایوارڈ کے بغیر چل رہے ہیں۔

ہر بجٹ کے بعد این ایف سی کا انتظار کرتے ہیں لیکن صرف کٹوتی ملتی ہے۔ صوبے نے اپنی ریکوری چار ارب سے سو ارب بڑھا دی ہے۔ جس کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ تین سو ارب سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اس بات کو نہیں مانتے وہ تلملائے ہوئے ہیں،جو یہاں چلاتے ہیں لیکن وہ قومی اسمبلی میں سندھ کے خلاف زیادتیوں بہت خاموش ہیں۔ آج جب اس اسمبلی نے انھیں عزت دی لیکن انھوں نے ایوان جو جوتا دکھایا۔

جوتا دکھانا ایک چھچوری عادت ہے۔۔ایم کیو ایم اگر اپنے برے لوگوں کا نام پہلے دیتے تو نوبت آپریشن تک نہیں پہنچتی ۔نثار کھوڑو نے فنکنشل لیگ کے رہنماؤں کا نام لئیے بغیر تنقید کی اور کہا کہ وفاق میں بیٹھے، ہوئے سندھ کے لوگ منافقت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کہتے ہیں ہم تبدیلی لائے ہیں وہ اپنے صوبے کا بجٹ نہیں لا سکے ۔وزیر پارلیمانی نے کہا کہ: اگر پنجاب کو زیادہ پیسے ملے ہیں اور اس نے ترقی کی لیکن اہم بات یہ ہے کہ سندھ نے اپنے محدود وسائل کے باوجود ترقی کی ہے اور وہ ترقی میں دوسرے نمبر پر ہے۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ ہمیں اپنی محنت اور کارکردگی سے حکومت ملتی ہے۔ آئندہ بھی ہماری کارکردگی پر ہمیں حکومت ملے گی۔ انہوںنے کہا ہے کہ جب ہم اپوزیشن کو گزشتہ ادوار یاد دلاتے ہیں تو ان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے سندھ اسمبلی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے اپنی بجٹ تقریر میں اپوزیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جی ایم سید کی موجودگی میں پاکستان کاجھنڈہ لہرایا گیاجوخاتون ان کے ساتھ تھیں اس کووزیر تعلیم بنایا گیا،،جی ایم سید کے پوتے کو بھی ایم کیوایم نے ڈپٹی اسپیکر بنایا، انہوں نے کہا کہ جی ایم سید نے ایک مرتبہ الیکشن لڑا پیپلزپارٹی نے ضمانت ضبط کرادی ۔

سیاسی تربیت میں نفرت پڑھائی جائے توتربیت میں کمی رہ جاتی ہے،کوٹہ سسٹم شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے متعارف نہیں کیا۔مختلف آمروں نے کوٹہ سسٹم کو توسیع دی ،کوٹہ سسٹم وفاقی مسئلہ تھاایم کیوایم وفاقی حکومتوں میں رہی ،کبھی کوٹہ سسٹم کے خلاف بل تو کیا بات تک نہیں کی گئی۔بہاریوں کی واپسی بھی شہید بھٹو کے دور میں ہوئی ،اورنگی ٹائون کوآباد کیا گیا،سندھی صرف زبان ہی نہیں لسان بھی ہے صوبے میں سندھی کولازمی کردیا گیا توکون ساجرم ہے۔

ایک زمانے میںایم کیوایم کے سربراہ نے پاکستان کاجھنڈاجلایا تھا۔پکا قلعہ آپریشن میں خواتین ہلاک ہوئیں کیونکہ ان کو آگے کیا گیا تھا۔ شہلا رضا نے کہا کہ ایک صاحب نے مجھے خالہ کہہ کر مخاطب کیا حالانکہ انکے یہاں تو خواتین کو مہ جبین کہنے کا رواج ہے ۔انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں ہر چھوتا بچہ اسکول سے باہر ہے۔یہ ہے خٹک کی تبدیلی جہاں تعلیم کی صورتحال بہت خراب ہی11 لاکھ بچے اسکول کبھی گئے ہی نہیں ،،مولانا سمیع الحق کے مدرسے میں رقوم خرچ کی گئیںآپ کے ہاں خواتین کو مہ جبین کہنے کا رواج ہے ۔

ڈپتی اسپیکر نے کہا کہ رئیس امرہووی نے قائد ایم کیوایم کی کوڑوں کی سزا معاف کرائی ،اس صلے میں رئیس امروہوی کو نامعلوم افراد کے زریعے قتل کرایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے دس سال کے لیے کوٹہ سسٹم لگایا تھا، پرویز مشرف نوازشریف اور اسحاق خان نے کوٹہ سسٹم میں توسیع کی ،پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں کوٹہ سسٹم کو توسیع نہیں دی ،بہاریوں کو وطن واپس لانے کے لیے انہوں نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

سندھ کے وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ آئین میں نئے صوبے کی کوئی گنجائش نہیں،آسمانی صحیفہ بھی آجائے توبھی ہم سندھ کی تقسیم قبول نہیں کریں گے ،ہماری دعا ہے کہ سندھ میں امن کی بارش ہوئی۔۔سندھ اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کا نام لئے بغیر ان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر تنقید کی گئی کہ میں موٹر سائیکل چلاتا تھاکیا یہ میرا حق نہیں ہے انہوں نے کہا کہ چلومیں تو چائے بیچتا تھا آپ اسمبلی سے پہلے کیا کرتی تھیں انہوں نے کہا کہ ماضی میںقاتلوں کو آپ نے پیرول پر رہا کیا،،کراچی میں قتل و غارت گری کرنے والے کون تھے سب جانتے ہیں،وہ لوگ کہاں ہیں کراچی کے لوگ امن چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہاجر تو کیمپوں میں رہنے والے ہوتے ہیںہم نے تو آپ کو دلوں میں جگہ دی ، سندھ صرف سندھ ہے یہاںکوئی اندرون یا بیرون نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کا واقعہ غلطیوں کے اعتراف سے ختم نہیں ہوجاتا۔کیا ہٹلر کو معاف کیا جاسکتا ہی بارہ مئی کو وکلاء کو زندہ جلایا گیا انکے بچوں پر کیا بیت رہی ہے ۔آپ نے تو ججز کے چیمبر میں بیٹھ کر کلاشنکوف دکھائی ،اس شہر میںکیا کچھ نہیں کیا گیا،بلدیہ فیکٹری میں بھتہ نہیں ملا لوگوں کو جلا دیاآپ کہتے ہو اردو اسپیکنگ ، بھائی اردو اسپیکنگ تو پروین شاکر تھیں،انور شعور، سحر کاظمی حکیم سعید اردو اسپیکنگ تھے ۔

ضیائالحسن لنجار نے کہا کہ جوتا دیکھا کر پوری سندھ اسمبلی کی توہین کی گئی یہ جوتا صرف ڈپٹی اسپیکر کو نہیں بلکہ پوری اسمبلی کو دکھایا گیاتھا۔انہوں نے نصرت سحر عباسی کا نام لئے بغیر کہا کہ ان کے لیڈروں کو بھی کہونگا کہ انکا دماغی معائنہ کرانے کے بعد اسمبلی بھیجیں،پاگل لوگوں کو اسمبلی مت بھیجا کریں۔انہوں نے کہا کہ جوتا دکھانے کے عمل کی مذمت کرتے ہیں،شاید وہ جوتے کا سائز چیک کروانا چاہتی ہوں۔

جس پر اسپیکر نے وزیر قانون سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے انکے جوتے کا سائز چیک کیا تھا۔ سندھ کے سابق وزیر اعلی سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوری روایات کی امین ہے ہم میں ہر کسی کی بات سننے کا حوصلہ موجود ہے ،ہم اپوزیشن کو برداشت کرتے اور انکی سنتے ہیں لیکن افسوس کہ اب تو کچھ لوگوں کو اپنی زبان پر اور پائوں پر بھی قابو نہیں رہا۔

پیر کو سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا صوبائی بجٹ مناسب اور متوازن ہے جسے حالات کو سامنے رکھ کر حقیقت پسندانہ انداز میں مرتب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم تو بلاشبہ اس کی تعریف کریں گے لیکن دوسرے دوستوں کو بھی تعریف کرنی چاہیے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ بھٹو نے اپنی تقریر میں ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا تھا،اس تقریر میں میں خود موجود تھا۔

اس وقت مشرقی پاکستان اکثریت میں تھا۔ وہی صوبہ اپنی مرضی چلاتا تھا۔اس وقت یہ فیصلہ کیا گیا کہ چاروں صوبوں کی بات مانی جائے نہ کہ بڑے صوبے کی۔ اس وقت چاروں صوبوں میں پیپلزپارٹی اکثریت میں تھی۔ یحی خان نے قدغن لگایا تھا کے چار ماہ کے اندر آئین بنایا جائے ورنہ اسمبلیاں ختم کردیں گے۔ اس کا خیال تھا کہ مختلف خیالات کے لوگ ہیں آئین نہیں بنا سکیں گیتاکہ اس کی آمریت برقرار رہے ۔

سید قائم علی شاہ نے کہا کہ پاکستان بھٹو صاحب کی ضد کی وجہ سے نہیں ٹوٹا،اسوقت مارشل لاایڈمنسٹریٹر کون تھا یہ ایک تاریخ ہے اور میں اسکا گواہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ بعد مین باقی ماندہ ملک کو بچانے کے لیے پھر بھٹو صاحب کو لایاگیا ۔ہم بھٹو کے شاگرد ہیں وہ ڈائیلاگ کا دھنی تھا،بی بی نے کہا تھا کہ روزگار سب کے لیے وہ ہم نے دیا ۔انہوں نے کہا کہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ،ہم نے آٹھ سال میں تین لاکھ نوکریاں دیں یہ پیپلز پارٹی کا ایک تاریخی کارنامہ ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے دادو سے رکن صوبائی اسمبلی بیرسٹر پیر مجیب الحق نے کہا کہ اپوزیشن کو تنقید کے علاوہ کچھ نہیں آتا،حکومت سونے کی بھی بن جائے مگر پھر بھی حزب اختلاف کے ارکان تنقید ختم نہیںہوگی تاہم بعض معاملات پر انہوں نے خود بھی سندھ حکومت پر تنقید بھی ان کا کہنا تھا کہ 2013میں بھرتی ہونے والے سندھی لینگویج اساتذہ کو تنخواہیں نہیں ملیں۔