عمران کا سو دن کا پروگرام قبل از انتخابات دھاندلی کا اشارہ بنتا ہے ،ْخورشید شاہ

عمران خان کے جنوبی پنجاب کیلالی پاپ میں کوئی حقیقت نہیں ،ْ قائد حزب اختلاف وزیراعظم سے (آج) گیارہ بجے مشاورتی ملاقات ہوگی، دوران ملاقات بھی نگراں وزیراعظم کا اعلان ہو سکتا ہے ،ْ اپوزیشن لیڈر کی گفتگو

پیر مئی 17:47

عمران کا سو دن کا پروگرام قبل از انتخابات دھاندلی کا اشارہ بنتا ہے ،ْخورشید ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے 100 دن کا پروگرام دینا پری پول رگنگ کا اشارہ بھی بنتا ہے۔۔عمران خان کے 100 روزہ پلان کے اعلان پررد عمل میں خورشید شاہ نے کہا کہ 100 دن کا پروگرام ناقابل عمل ہے ،ْ اگر 100 دنوں میں عمران خان نے عمل درآمد کردیا توسیاست چھوڑدوں گا ،ْ یہ عملی پلان نہیں بلکہ الیکشن شوشہ کہہ سکتا ہوں کیونکہ دعوؤں کی کوئی حقیقت بھی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کے پاس ایک صوبہ تھا، وہاں عمل کیوں نہیں کیا، ان کے پاس بہت بڑا چانس تھا وہ ان چیزوں کو کے پی کے میں ثابت کرتے، ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی، صوبے میں پانچ ہزار بھی نہیں دے سکے، کے پی میں ترقیاتی کام دیکھ لیں اور اسکولوں کی حالت دیکھ لیں۔

(جاری ہے)

سید خورشید شاہ نے کہا کہ 100 دن کا پروگرام دینا پری پول رگنگ کا اشارہ بھی بنتا ہے کیونکہ الیکشن جیت کر 100 دن کا پروگرام دیا جاتا ہے پہلے نہیں، یہ الیکشن جیت کربیٹھے ہیں اس لیے 100 روزہ پروگرام دے دیا ،ْیہ جیتے تو اب کوئی الیکشن ماننے کو تیار نہیں ہو گا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عمران خان نے جنوبی پنجاب کا جو لالی پاپ دیا اس میں کوئی حقیقت نہیں ،ْپیپلزپارٹی کے سوا کسی جماعت نے عملی طور پر جنوبی پنجاب صوبے کی بات نہیں کی۔صحافی کے سوال پر کہ کیا احسن بھون جیسے کوئی سینئر وکیل بھی نگران وزیراعظم ہو سکتے ہیں خورشید شاہ نے جواب دیا کہ جی احسن بھون بھی ہو سکتے ہیں۔۔خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم سے (آج) منگل کو گیارہ بجے مشاورتی ملاقات ہوگی، دوران ملاقات بھی نگراں وزیراعظم کا اعلان ہو سکتا ہے البتہ کل نگراں وزیراعظم کا اعلان نہ ہوا تو کچھ دن مزید لگ سکتے ہیں۔