توہین عدالت کیس ، سپریم کورٹ کا طلال چوہدری کو( کل) گواہوں کی فہرست دینے کا حکم، سماعت 23مئی تک ملتوی

پیر مئی 17:56

توہین عدالت کیس ، سپریم کورٹ کا طلال چوہدری کو( کل) گواہوں کی فہرست دینے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں طلال چوہدری کو کل گواہوں کی فہرست فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 23مئی تک ملتوی کر دی۔ پیر کو سپریم کورٹ میں طلال چوہدری توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی۔ طلال چوہدری کے وکیل نے بتیا کہ عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے، عدالت اس طرح کے مقدمات میں تحمل کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ دفعہ342کا بیان ریکارڈ ہونے دیں جب دلائل کی باری آئے گی تو دیکھیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے طلال چوہدری سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی عمر اور پیشہ کیا ہی طلال چوہدری نے بتایا کہ میری عمر 43سال ہے اور کاروبارکاشتکاری اور بزنس پیشہ ہے، فیصل آباد میں میری تقریر نہیں پریس ٹاک تھی۔

(جاری ہے)

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ 24اور 27جنوری کو عوامی جلسے میں تقریریں کیں، طلال چوہدری نے بتاای کہ 24جنوری کو تقریر نہیں پریس ٹاک تھی، میری پریس ٹاک کو سیاق و سباق سے ہٹ کرچلایا گیا، بدنیتی سے میری پریس ٹاک کو ایڈٹ کیا گیا،27جنوری کی تقریر میں کسی جج کا نام نہیں لیا، بیانات کی ویڈیو عدالت میں نہیں چلائی گئی، جو ویڈیو چلائی وہ ایڈٹ شدہ ہے، بیان، ویڈیو اور ٹرانسکرپٹ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کیا ویڈیو میں تصویر طلال چوہدری کی ہی طلال چوہدری نے بتایا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی اور عدلیہ بحالی تحریک میں پی سی او پر بات ہوئی تھی، عدالت نے طلال چوہدری کو (آج)منگل تک گواہوں کی فہرست فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 23مئی تک ملتوی کر دی۔