جنوبی کوریا فرار 13ملازمین کو واپس کرے، شمالی کوریا کا مطالبہ

موجودہ سیئول انتظامیہ سابقہ حکومت کی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے تصحیح کرے،ریڈکراس

پیر مئی 17:57

پیانگ یانگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) شمالی کوریا نے جنوبی کوریا فرار ہونے والے 13 ملازمین کی واپسی کا مطالبہ کر دیا،سیئول کی موجودہ انتظامیہسابقہ حکومت کی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے تصحیح کرے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا نے جنوبی کوریا فرار ہونے والے 13 ملازمین کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔۔چین کے شمال مشرقی صوبے زیجیانگ کے شہر نینگ بو میں شمالی کوریا کے ایک ریسٹورنٹ کے 12 عورتوں سمیت 13 شمالی کورئین ملازمین کی جنوبی کوریا میں پناہ کے بارے میں مباحث جاری ہیں۔

شمالی کوریا کے حکام نے ملازمین کی واپسی کے لئے جنوبی کوریا سے رابطہ کیا ہے اور اس دوران یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ ملازمین نے پناہ نہیں لی بلکہ انہیں اغوا کیا گیا ہے۔جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ نے شمالی کوریا کی خبر رساں ایجنسی کے سی این ای کے حوالے سے شائع کردہ خبر کے مطابق شمالی کوریا کی ریڈ کراس تنظیم سے ایک با اختیار شخصیت نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کے حکام کو پارک انتظامیہ کے پوشیدہ مظالم کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس واقعے میں شامل افراد کو سخت سزا دینی چاہیے۔

(جاری ہے)

ہماری خواتین شہریوں کو بلا تاخیر ان کے کنبوں کو بھیجنا چاہیے اور اس طرح شمالی و جنوبی کوریا کے باہمی تعلق میں فروغ کی خواہش کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہم آنے والے دنوں میں جنوبی کوریا کے طرز عمل پر بغور نگاہ رکھیں گے۔مذکورہ ملازمین کے زبردستی اغوا کئے جانے کا دعوی کرتے ہوئے ریڈ کراس کی شخصیت نے کہا ہے کہ چین میں شمالی کوریا کے ریسٹورنٹ کے منتظم نے جنوبی کوریا کے ٹیلی ویژن کے لئے جو بیان جاری کیا ہے وہ اغوا کے دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ ملازمین کے اغوا کا واقعہ جنوبی کوریا کے سابق صدر پارک گوئین ہئے انتطامیہ کی طرف سے پلان کیا گیا ہو۔ تاہم سیول کی موجودہ انتظامیہ کو سابقہ حکومت کی غلطی کو تسلیم کرنا اور اس کی تصحیح کرنا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :