ایرانی مفادات کے لئے یورپی یونین کی کوششیں ناکافی ہیں،جواد ظریف

یورپ کی بڑی کمپنیوںکا ایران سے تعاون ختم کرنے کا احتمال جوہری سمجھوتے کے ساتھ وابستگی پر استقامت کا عکاس نہیں،ایرانی وزیر خارجہ

پیر مئی 17:57

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایرانی مفاد کے تحفظ کے لئے یورپی یونین کی کوششیں ناکافی ہیں،،یورپ کی بڑی کمپنیوںکا ایران سے تعاون ختم کرنے کا احتمال ہے جو یورپی یونین کی جوہری سمجھوتے کے ساتھ وابستگی پر استقامت کا عکاس نہیں ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ سال 2015 میں طے پانے والے جوہری سمجھوتے کے ایران کے لئے پیدا کردہ فوائد کے تحفظ کے لئے یورپی یونین کی کوششیں ناکافی ہیں۔

ظریف نے دارالحکومت تہران میں یورپی کمیشن کے ماحول و توانائی کے امور کے ذمہ دار رکن میگل آریئیس کینیٹے کے ساتھ ملاقات کی۔۔مذاکرات میں ظریف نے کہا کہ امریکہ کی سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد سمجھوتے کے ایران کے لئے پیدا کردہ فوائد کے تحفظ کے لئے یورپی یونین سے ایران کی توقعات میں اضافہ ہو گیا ہے اور یورپی یونین سمجھوتے کے ساتھ جو سیاسی تعاون کر رہی ہے وہ موجودہ صورتحال میں ناکافی ہے۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں ظریف نے کہا کہ یورپ کی بڑی بڑی کمپنیوں کی طرف سے ایران کے ساتھ تعاون کو ختم کرنے کے اعلان کا احتمال، یورپی یونین کی جوہری سمجھوتے کے ساتھ وابستگی پر استقامت کی عکاسی نہیں کرتا۔۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ،،ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے امریکہ کی دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔۔امریکہ کے برلن کے لئے نئے سفیر رچرڈ گرینل نے ٹویٹر پیج سے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ""ایران میں کام کرنے والی جرمن کمپنیوں کو فوری طور پر اپنے کاروائیوں کو محدود کر دینا چاہیی"۔

واضح رہے کہ یورپی کمیشن نے 1996 میں قبول کئے جانے والے بلاکنگ قانون کو جمعہ کے دن سے دوبارہ فعال بنا دیا تھا۔مذکورہ اطلاق سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی یورپی فرموں کو امریکی پابندیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔یورپی لیڈر اور تہران امریکہ کے سمجھوتے سے نکلنے کے فیصلے کے باوجود سمجھوتے کو جاری رکھنے کے حامی ہیں۔