میانداد بھی ٹیسٹ کرکٹ سے ٹاس ختم کرنے کے حامی،سلیم الطاف کی مخالفت

ٹیسٹ کر کٹ میں ٹاس کو ختم کرنے سے میزبان ٹیم اپنے لیے موزوں وکٹ بنانے کے بجائے معیاری پچ تیار کریگی،میانداد ٹاس کھیل کا اہم اور روایتی حصہ ہے ، اسے ختم کرنے کی کوئی تک نہیں، درحقیقت ٹاس کپتان کی قابلیت کو جانچنے کا بھی ایک ذریعہ ہے جہاں اسے ٹاس جیتنے کے بعد بیٹنگ یا بالنگ کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے،سابق کر کٹر سلیم الطاف

پیر مئی 18:08

میانداد بھی ٹیسٹ کرکٹ سے ٹاس ختم کرنے کے حامی،سلیم الطاف کی مخالفت
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل((آئی سی سی))نے نئے فیوچر ٹور پروگرام میں ٹیسٹ میچز کے دوران ٹاس ختم کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے جس کی سابق عظیم پاکستانی بلے باز جاوید میانداد نے حمایت کردی ہے تاہم سابق کرکٹر سلیم الطاف اس تجویز کی مخالفت میں سامنے آ گئے ہیں۔قومی ٹیم کے سابق کپتان اور عظیم بلے باز جاوید میانداد نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئی سی سی ٹاس ختم کرنے کی تجویز پر عمل کرتا ہے تو اس میں کوئی نقصاندہ بات نہیں کیونکہ اس کی بدولت میزبان ٹیم اپنے لیے موزوں وکٹ بنانے کے بجائے معیاری پچ تیار کریگی۔

124ٹیسٹ میچ کھیلنے والے میانداد نے کہا کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ٹاس میچ کا اہم جزو ہے لیکن بہتر نتائج کے لیے تجربہ تو کرنا پڑے گا اور ٹاس ختم کرنے کی تجویز اچھی معیاری وکٹیں بننے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ موجودہ دور میں تیار کی جانے والی وکٹیں میزبان ٹیم کو غیرمنصفانہ مدد فراہم کرتی ہیں اور یہ مہمان ٹیموں کی جیت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب سابق کرکٹر سلیم الطاف اس تجویز کے مخالف نظر آئے اور انہوں نے ٹاس کے سلسلے کو برقرار رکھنے کی تجویز پیش کی۔انہوں نے کہا کہ ٹاس کھیل کا اہم اور روایتی حصہ ہے لہذا اسے ختم کرنے کی کوئی تک نہیں۔ درحقیقت ٹاس کپتان کی قابلیت کو جانچنے کا بھی ایک ذریعہ ہے جہاں اسے ٹاس جیتنے کے بعد بیٹنگ یا بالنگ کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ بعدازاں اس کا فیصلہ میچ کے اختتام پر غلط یا صحیح ثابت ہوتا ہے جو اس کی ٹیم کی فتح یا شکست پر منتج ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ چیف آپریٹنگ آفیسر کی حیثیت سے آئی سی سی کے اجلاسوں میں شرکت کرتا رہا ہوں جہاں وکٹوں کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیشنل کیوریٹر متعارف کرنے کی تجویز پر بھی مباحثے ہوئے۔سلیم الطاف نے تجویز پیش کی کہ ٹاس ختم کرنے کے بجائے انٹرنیشنل کیوریٹر کو وکٹ بنانے کی ذمے داری سونپی جائے جسے یہ ہدایات دی جائیں کہ وہ اسپورٹنگ وکٹیں تیار کرے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں سلو اور اسپن کے لیے سازگار وکٹیں بنائی جاتی ہیں جو ان ٹیموں کی جیت میں کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ اس خطے نے عموما دنیا کے بہترین اسپنرز پیدا کیے ہیں۔ تاہم جب یہ دونوں ٹیمیں انگلینڈ، آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ کا دورہ کرتی ہیں تو اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتی ہیں کیونکہ ان ملکوں میں وکٹیں برصغیر کی نسبت بالکل مختلف ہوتی ہیں۔سلیم الطاف نے موقف اختیار کیا کہ کرکٹ کے لیے بہتر یہی ہے کہ اسپورٹنگ وکٹیں تیار کی جائیں جو بلے بازوں، اسپنرز اور فاسٹ بالرز کے لیے یکساں مددگار ہوں اور یہ آئی سی سی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔