حکومت بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی وضع کرے ، رانااخلاق احمد

پیر مئی 18:31

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) سابق چیئر مین آل پاکستان پا ور لومز ایسوسی ایشن رانااخلاق احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی وضع کرے تا کہ آنے والی نسلوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے،پچھلے تقریبا پانچ سالوں کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضے میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک خطرناک طور پر قرضوں کے جال میں پھنستا جا رہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کیمطابق مارچ 2018کے اختتام تک پاکستان کا بیرونی قرضہ بڑھ کر91.8ڈالر ارب ہو گیا ہے جو ملک کے مستقبل کیلئے تشویشناک ہے کیونکہ اس سے معیشت کیلئے متعدد مسائل پیدا ہوں گے اور قومی خزانے پر دبائو بڑھے گا ۔

(جاری ہے)

۔انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے بھی ملک کا نظام چلانے کیلئے بیرونی قرضوں پر زیادہ انحصار کیا تھا اور توقع کی جاتی تھی کہ موجودہ حکومت اس نقصان دہ رجحان کی حوصلہ شکنی کرے گی اور ملک کو قرضوں کے جال سے نکالنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی لیکن موجودہ حکومت نے بیرونی قرضے میں مزید اضافہ کیا ہے جو معیشت کے مستقبل کیلئے اچھا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو اس وقت پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 60.9ارب ڈالر تھا جبکہ مارچ 2018تک یہ قرضہ بڑھ کر 91.8ارب ڈالر ہو گیا ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو جلد ہی ملک کا بیرونی قرضہ 100ڈالر سے تجاوز کر جائے گا جس سے قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے قومی خزانے پر مزیدبوجھ پڑے گا۔

متعلقہ عنوان :