طلال چوہدری توہین عدالت کیس :

سپریم کورٹ کا طلال چوہدری کو دفاع میں گواہ اور شہادتیں پیش کرنے کا حکم

پیر مئی 18:38

طلال چوہدری توہین عدالت کیس :
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے طلال چوہدری کو اپنے دفاع میں گواہ اور شہادتیں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوے توہین عدالت کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی جبکہ کیس کی سماعت کے دوران طلال چوہدری عدالتی استفسار پر 342کا بیان حلفیہ ریکارڈ کرانے سے انکار بھی کردیا ہے ۔ پیر کے روز جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی تو ، طلال چوہدری اپنے وکیل کامران مرتضی ٰ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوے اور کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عدالت ہمارے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کرے ، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اب تو بحث کا وقت نہیں ، ملزم پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے ، ملزم کا 342کا بیان ریکارڈ ہونا ہے ، عدالتی حکم پر طلال چوہدری روسٹرم پر آئے تو عدالت نے طلال چوہدری سے سوال کیاکہ کیا درست ہے کہ یہ تقاریر عوامی اجتماعات کی تھیں ،،طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ 24 مئی کی تقریر نہیں تھی پریس ٹاک تھی اور پریس ٹاک کو ایڈیٹ کر کے میرے بہت سے الفاظ کو بدنیتی سے نکال دیئے گئے اورمیری تقریر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی اور 27 جنوری کی تقریر کسی جج کے لیے نہیں تھی ،،عدالت نے سوال کیاکہ کیا دکھائی گئی ویڈیو کلپ آپ کی ہی اس پرطلال چوہدری نے کہاکہ مکمل ویڈیو انکی نہیں اس کو کاٹا گیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا بابا رحمت سے متعلق جملے آپ کے تھی طلال چوہدری نے کہاکہ بہت سے جملے کاٹے گئے اور جوڑے گئے میں نے یہ بھی کہا بابا رحمت کی ہم عزت کرتے ہیں۔ جب عدالت نے کہاکہ کیا عدالت میں پی سی او بت بیٹھنے کی بات آپ کی ہی تو طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس کو پورا پڑھا جائے۔ اس دوران جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آپ کی بات کی ٹون اور الفاظ عدلیہ کے مخالف تھے، یہ الفاظ توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں، اس پر طلال چوہدری نے کہاکہ میں نے کوئی توہین عدالت نہیں کی،میں عدالت کی عزت کرتا ہوں، جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آپ عزت کرتے ہیں تو دیکھ لیں گے کیا آپ 342کا بیان حلفا دیں گے، طلال نے جواب دیا کہ اس پر مشورہ کرنے کی ضرورت ہے، جسٹس گلزار نے کہاکہ مشورہ کیا کرنا ہے ابھی جواب دیں آپ 342کا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں آپ نے ہاں اور نہ میں جواب دینا ہے، جس پر طلال چوہدری نے اپنا بیان حلفا ریکارڈ کرانے سے انکار کردیا ۔

طلال چوہدری نے کہاکہ وہ خاص حالات سے دوچار ہیں،جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ یہ آپکا بیان ہے جماعت کا بیان نہیں اور عام باتیں کرنے نہیں دیں گے، یہ عدالتی کارروائی ہے تقریر کی اجازت نہیں دے سکتے، طلال چوہدری نے کہاکہ میری ٹاک کے ٹکرے ٹکرے جوڑے گئے پہلے بھی توہین عدالت اور توہین رسالت کے الزامات لگے، جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ساری دنیا کی کہانی تو ہم ریکارڈ نہیں کریں گے، طلال نے کہاکہ پہلے بھی استدعا کی ہے کہ نوٹس خارج کیا جائے،میری نیت پر شک نہ کیا جائے، کھبی کسی ادارے نے میری تقاریر کا نوٹس نہیں لیا ، میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا لاء گریجویٹ ہوں ، میں عوام کا منتخب نمائندہ ہوں ، الیکشن کو دن ہیں میرے کیخلاف میرے مخالفین کیس کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہے ہیں میرے مخالفین کہتے ہیں طلال چوہدری کو سزا ہوجائے گی اس کا ساتھ چھوڑ دو لیکن مجھے یقین ہے عدالت انصاف کرے گی ، طلال چوہدری کا بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے طلال چوہدری کو اپنے دفاع میں گواہ اور شہادتیں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی ۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پر ہی جرح مکمل کی جائے گی