امریکہ کے معروف مؤرخ برنارڈ لیوس چل بسے

پیر مئی 18:40

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) معروف مؤرخ برنارڈ لیوس گزشتہ روز ایک معاونتی علاج کراتے ہوئے چل بسے ہیں ان کی کتابوں نے مشرق وسطیٰ کے سکالرز کی ایک نسل کو متاثر کیا تاہم ان کے خیالات نے سخت جذبات اور احساسات کو ابھارا،ان کی عمر101برس تھی،یہ بات واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

(جاری ہے)

برناڈ لیوس جو کہ لندن میں پیدا ہوئے تھے جو کہ پرسٹن یونیورسٹی کے دیرینہ پروفیسر تھے،سرد جنگ حامی اور اسرائیل نواز یہودی تھے اور عراق پر2003ء کی امریکی جارحیت کے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے منصوبہ سازوں میں شامل تھے۔

ان کی مشہور کتابوں میں عربزان سہٹری،جدید ترکی اور اسلام کا بحران شامل ہیں۔ تاہم ناقدین نے یہ بحث چھیڑی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کو تہذیبوں کے تصادم کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا مرکز ومحور یورپ ہے،لیوس کے حامیوں میں امریکہ کا نیا سرکردہ سفارتکار بھی شامل ہے۔ امریکہ کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ برناڈ لیوس ایک سچا سکالر اور عظیم آدمی تھا ،میں ان کے کام کے باعث مشرق وسطیٰ کو زیادہ تر سمجھتا ہوں۔