نکات شو فلاپ ہو چکا،بادی النظر میں سو روزہ پلان غیر مرئی قوتوں کی اختراع ہے ، میاں افتخار

90روز میں جس تبدیلی کا اعلان کیا گیا اس کی زد میں خیبر پختونخوا آیا لیکن خوش قسمتی سے باقی ملک محفوظ رہا

پیر مئی 18:46

نوشہرہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کی نکات گیم اور حالیہ سو روزہ پلان پی ٹی آئی کی اختراع نہیں ہو سکتی اور اس کے پیچھے کوئی غیر مرئی طاقتیں موجود ہیں ، مستقبل کیلئے کپتان کے سو روزہ تبدیلی پلان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے پبی میں اخبارنویسیوں اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعلان جماعت کے رہنماؤں سے کرایا گیا جبکہ عمران نے اعلان کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا ، انہوں نے کہا کہ انتخابی منشور تمام سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے خیبر پختونخوا میں شدید ناکامی کے باوجود بھی سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو خفت کا احساس تک نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں 90روز میں جس تبدیلی کا اعلان کیا گیا اس کی زد میں خیبر پختونخوا آیا لیکن خوش قسمتی سے باقی ملک محفوظ رہا جبکہ ہمارے صوبے کو پوری پوری سزا بھگتنی پڑی ، صوبے میں کوئی ایک ایسا کام نہیں کیا گیا جس کی مثال دی جا سکے البتہ کرپشن اور کمیشن ، بد انتظامی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ، میاں افتخار حسین نے منصوبے کے چیدہ چیدہ نکات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کا اعلان سمجھ سے بالاتر ہے یہ کام موجودہ مرکزی حکومت کر رہی ہے اور امید افزا بات ہے کہ اس پر آئندہ چند روز میں عمل ہو جائے گا ، انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کا بل اسمبلی میں پیش کیا گیا تو پی ٹی آئی نے بھی اس کا بائیکاٹ کیا لہٰذا اس ایم قومی ایشو کا کریڈٹ لینے کی ناکام کوشش صرف پوائنٹ سکورنگ کیلئے ہے ، انہوں نے کہا کہ بیورکریسی کو سیاست سے پاک کرنے کا دعوی کرنے والے پہلے بیوروکریسی کے بارے میں وضاحت کریں ، میرٹ کی خیبر پختونخوا میں دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں اور اقربا پروری کی جو مثال قائم کی گئی وہ تاریخ میں نہیں ملتی،انہوں نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ اے این پی دور کے منصوبوں کو زیر التوا رکھا گیا اور بعد ازاں ان تمام افراد کو نکال کر اپنے لوگ منصوبوں پر لگا کر انہیں اپنے کھاتے میں ڈالا گیا ، ایک کروڑ نوکریاں بھی اسی طرح دی جائیں گی اس منصوبے کیلئے پہلے ایک کروڑ لوگوں کو بے روزگار کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ90روز میں تبدیلی لانا صدی کا پہلا سب سے بڑا اور سو روزہ پلان صدی کا دوسرا بڑا جھوٹ ہے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا شدید طورپر متاثر ہوا ہے اور باقی ملک کے عوام ان نکات اور منصوبوں پر یقین سے قبل خیبر پختونخوا کا دورہ ضرور کریں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیب کو ٹھیک کرنے کا دعوی بذات خود ایک سوال ہے خیبر پختونخوا میں نیب کا راستہ بند کرنے اور اپنے کرپٹ وزرا کو شکنجے سے بچانے کیلئے احتساب کمیشن قائم کیا گیا جسے بعد میں بے قاعدگیوں میں الجھا کر تالے لگا دیئے گئے ، انہوں نے کہا کہ دراصل پی ٹی آئی ملک میں نیب کا خاتمہ چاہتی ہے تاکہ کوئی ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے ، سٹیل ملز اور پی آئی اے کی حالت بہتر کرنے والے بتائیں خیبر پختونخوا میں کارخانے بند ہونے کے قریب کیوں ہیں اور گدون امازائی کو کارخانوں کا قبرستان کیوں بنا دیا گیا ہے ، میاں افتخار حسین نے ایک بس اڈے کی تعمیر پر کوئی پیشرفت دکھائی نہیں دے رہی ایسے میں پی آئی اے میں اصلاحات کے دعوے میں کتنی حقیقت ہو سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ در حقیقت کپتان کی ٹیم سوشل میڈیا کی سیاست پر یقین رکھتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے قوم کو گمراہ کرنے میں سہولت رہتی ہے ، انہوں نے کہا کہ زرواعت سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ عملی طور پر کام کرنے سے ٹھیک ہو گا لیکن بلین سونامی ٹری ابھی پختون بھول نہیں پائے جس میں اربوں کی کرپشن بھی کی گئی اور ان پودوں و درختوں کا نام و نشان بھی مٹا دیا گیا ،صحت اور تعلیم کی تباہی کے حوالے سے خیبر پختونخوادنیا بھر میں مشہور ہے اور چیف جسٹس کے حالیہ دوروں کے بعد اٹی گرد بھی صاف ہو چکی ہے ، چہیتے کو صوبے کاسب سے بڑا ہسپتال تحفے میں دے دیا گیا جو امریکہ میں بیٹھا ویڈیو لنک کے ذریعے محکمہ صحت چلا رہا ہے جبکہ ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کی چھت ٹپکنے کی ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کیمسٹ برادری کے 28ہزار افراد کو بے روزگار کر دیا جو مزدور کش پالیسی کی بد ترین مثال ہے ایسے لوگ ملک صرف تباہ کر سکتے ہیں اسے سنوار نہیں سکتے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے وزراء خود پرائیویٹ سکولوں کے مالکان اور سرکاری تعلیمی اداروں کی تباہی کے ذمہ دار ہیںجس کی واضح مثال گزشتہ سال میٹرک کے نتائج ہیں ،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یو این ڈی پی کی رپورٹ سامنے آ چکی ہے اور تبدیلی کا پول کھل گیا ہے ، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے والوں نے خیبر پختونخوا کو جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے دھکیل دیا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ گیم صرف اقتدار کی ہے اور کپتان کرسی اقتدار کیلئے شعبدہ بازی پر اتر آئے ہیں لیکن عوام با شعور ہیں اور اب وہ تبدیلی کی حقیقت جان چکے ہیں جس کا بدلہ وہ آنے والے الیکشن میں لیں گے۔