سوات موٹر وے منصوبے میں قومی وسائل ٹھیکیدارکی جھولی میں ڈالنے کی تحقیقات کی جائے ، سردار حسین بابک

منصوبے کی43ارب لاگت میں سی25ارب حکومت نے ادا کئے ،آمدن 25سال تک ٹھیکیدار کو دے دی گئی ، رہنماء اے این پی

پیر مئی 18:53

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی نے سوات موٹر وے منصوبے میں صوبائی حکومت کی تاریخ ساز اقربا پروری کی شدید مذمت کرتے ہوئے نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کو سوات موٹر وے کی آمدن سے محروم کرنے کی سازش کا نوٹس لے ، پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سوات موٹر وے کی کل لاگت43ارب کے لگ بھگ ہے جس میں اراضی خریداری سمیت25ارب روپے سے زائدصوبائی حکومت جبکہ17ارب ٹھیکیدار نے ادا کئے ، انہوں نے کہا کہ لاگت کا 50فیصد سے زائد صوبائی حکومت نے ادا کیا ہے اس کے باوجود آمدن ٹھیکیدار کے کھاتے میں ڈال کر اسے نوازنے کی کوشش کی گئی ہے جو آئندہ25برس تک اس سے ہونے والی آمدن وصول کرے گا ، انہوں نے کہا کہ حکومت نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اسمبلی و دیگر متعلقہ فورم سے منظوری لئے بغیر آمدن کی بندر بانٹ کا فیصلہ کیا اور صوبے کو آئندہ25سال کیلئے آمدن سے محروم رکھا گیا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ منصوبے میں اتنی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کے باوجود صوبے کو فائدہ دینے کی بجائے ٹھیکیدار کو فائدہ دینے کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما تھے ، انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک صوبے میں اقربا پروری کو فروغ دیا گیا اور اس کی صوبے میں کئی مثالیں موجود ہیں ، سردار حسین بابک نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت غریب صوبے کے قومی وسائل ٹھیکیدار کی جھولی میں ڈالے گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نیب نوٹس لیتے ہوئے حکومت اور ٹھیکیدار کے درمیان ہونے والے معاہدے اور صوبے کو خطیر آمدن سے محروم کرنے کی تحقیقات کرے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل بے دردی سے لوٹے گئے ہیں اور بادی انظر میں اس کے پیچھے سازش کارفرما دکھائی دیتی ہے ، انہوں نے کہا کہ کرپشن اور کمیشن کی لمبی داستانیں لمحہ فکریہ ہیں ،سردار بابک نے کہا کہ صوبے کے وسائل لوٹنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے حکومت اس سلسلے میں پختون عوام کو وضاحت پیش کرے ۔