شام،فوجی اڈہ پرپراسرار دھماکے،اسد رجیم کے 28فوجی ہلاک،کئی افراد شدید زخمی،متعدد لاپتا

پیر مئی 19:46

حما(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) شام کے وسطی شہر حما میں فوجی اڈہ پراسرار دھماکوں سے گونج اٹھا،اسد رجیم کے 28فوجی ہلاک ہو گئے، دھماکوں سے کئی افراد شدید زخمی اور متعدد لاپتا ہیں۔دھماکوں کی وجوہات جاننے کی کوششیں جاری ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق شام کے وسطی شہر حما میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے پراسرار دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے سرکاری فوجیوں اور اس کی معاون ملیشیاں کے عناصر کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔

درجنوں افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے رصد گاہ برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حما کے فوجی اڈے پر یکیبعد دیگرے متعدد دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے نتیجے میں اسد رجیم کے 28 فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ شامی نژاد بعض غیر سرکاری جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔

ان کی غیر مصدقہ تعداد گیارہ بتائی جاتی ہے۔ دھماکوں کے نتیجے میں کئی افراد شدید زخمی اور متعدد لاپتا ہیں۔انسانی حقوق کے آبزرویٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ حما کے فوجی اڈے میں دھماکوں سیہلاک ہونیوالوں میں ایران اور حزب اللہ کے جنگجو بھی ہو سکتے ہیں۔حما کے فوجی اڈے پر دھماکوں کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ تاہم انسانی حقوق کارکن رامی عبدالرحمان کے مطابق یہ دھماکے کسی فنی خرابی کا نتیجہ بھی ہوسکتے ہیں۔

فوجی اڈے سے سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہوتے اور زور دار آوازیں سنائی دی گئی ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے اسرائیل بھی شام میں ایرانی اور شامی تنصیبات کو بمباری کا نشانہ بنا رہا ہے۔ شام میں اسرائیل کی آخری فوجی کارروائی نو اور دس مئی کی درمیانی شب کی گئی تھی جس میں صہیونی ریاست نے درجنوں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے کا دعوی کیا تھا۔

متعلقہ عنوان :