قائمہ کمیٹی مکانا ت اور تعمیرات کی وزارت میں خا لی عہدو ں پر جلد بھر تیا ں کر نے کی ہدا یت

قائمہ کمیٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اس کے معاملات پورے ملک میں چلتے ہیں، اس وزارت کی جائیدادیں پورے ملک میں بھی ہیں، تمام اراکین کمیٹی کے ساتھ ملکر ملک کے مفاد و خوشحالی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا، دارے کی کارکردگی کو موثر بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں گے،ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے گی جس کے تحت ملک و ادارے کے زیادہ سے زیادہ مسائل حل ہوسکیں، قائمہ کمیٹی مکانا ت اور تعمیرات

پیر مئی 19:57

اسلام آ با د (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) سینٹ قائمہ کمیٹی برائے مکانا ت اور تعمیرات نے وزارت میں خا لی عہدو ں پر جلد بھر تیا ں کر نے کی ہدا یت کر تے ہو ئے کہا ہے کہ یہ قائمہ کمیٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس کے معاملات پورے ملک میں چلتے ہیں اس وزارت کی جائیدادیں پورے ملک میں بھی ہیں تمام اراکین کمیٹی کے ساتھ ملکر ملک کے مفاد و خوشحالی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا دارے کی کارکردگی کو موثر بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں گے اور ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے گی جس کے تحت ملک و ادارے کے زیادہ سے زیادہ مسائل حل ہوسکیں۔

قائمہ کمیٹی برائے مکانا ت اور تعمیرات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاس میں پیر کو منعقد ہوا ۔

(جاری ہے)

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت مکانات و تعمیرات اور اس کے ماتحت اداروں کے فنکشنز ،،بجٹ ، کام کے طریقہ کار اور ان کی کارکردگی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ قائمہ کمیٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس کے معاملات پورے ملک میں چلتے ہیں اس وزارت کی جائیدادیں پورے ملک میں بھی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ تمام اراکین کمیٹی کے ساتھ ملکر ملک کے مفاد و خوشحالی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ ادارے کی کارکردگی کو موثر بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں گے اور ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے گی جس کے تحت ملک و ادارے کے زیادہ سے زیادہ مسائل حل ہوسکیں۔ چیئرمین کمیٹی نے واضح ہدایت دی کہ رولز کے مطابق تمام اراکین کمیٹی کو ورکنگ پیپر ز کمیٹی کے اجلاس سے 48گھنٹے پہلے فراہم کیے جائیں۔

جوائنٹ سیکرٹری وزارت مکانات و تعمیرات نے کمیٹی کو مین وزارت کے کام کے طریقہ کار ، کارکردگی ، بجٹ اور انتظامی برائے تفصیلی آگاہ کیاگیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چار مختلف ہیڈز میں بجٹ فراہم کیا جاتا ہے ۔ وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس کو مالی سال 2017-18میں 147ملین روپے فراہم کیے گئے جن میں سے 126ملین روپے ملازمین کے متعلقہ اخراجات میں صرف ہوئے۔

پی ڈبلیو ڈی کے لیے 3555ملین روپے فراہم کیے گئے ۔ ملازمین کے اخراجات 1295ملین روپے ، مکانات و دفاتر کی مرمت کیلئے 1754ملین روپے خرچ آئے۔ اسٹیٹ آفس کے لیے 143ملین روپے مختص کیے گئے جن میں سے 124ملین روپے ملازمین کے اخراجات کی مد میں خرچ کیے گئے۔ فیڈرل لاجز کے لیے 92ملین مختص کیے گئے جس میں سے 88ملین ملازمین کے اخراجات میں صرف کیے گئے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مین وزارت میں منظور شدہ پوسٹوں کی تعداد 181ہے جن میں سے 29خالی ہیں ۔

جس پر قائمہ کمیٹی نے وزارت کو جلد سے جلد خالی سیٹوں کو پر کرنے کی ہدایت کردی ۔ قائمہ کمیٹی کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاسنگ فانڈیشن کے کام ، کارکردگی اور مختلف شروع کردہ ہاسنگ سکیموں کی تفصیلات سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاسنگ فانڈیشن ایک کمپنی ہے جو وزارت کے ساتھ کام کررہی ہے ۔ یہ حکومت سے کوئی ڈونیشن نہیں لیتی۔

1984سے 2014تک 25ہزار گھر بناکر سرکاری ملازمین کو رہائش گاہ فراہم کی ہیں۔ 2009سے 2014تک 36ہزارملازمین نے ممبر شپ حاصل کی ہے ۔ 2005کے بعد فا ئونڈیشن نے پلاٹ لیکر خود تعمیر کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے ۔ ممبر شپ میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔ 2014-16تک لوگوں نے 90ہزارممبر شپ لی ہے۔ فانڈیشن کا مقصد بغیر چھت کے وفاقی ملازمین اور دوسرے مخصوص گروپوں کو نو پرافٹ نو لاس کی بنیاد پر چھت فراہم کرنا ہے۔

قائمہ کمیٹی کو بہارہ کہو ہاسنگ سکیم ، گرین انکلیو - ٹوہاسنگ سکیم ، سیکٹر 14-15ہاسنگ سکیم ، تھلیاں ہاسنگ سکیم ، پارک روڈ ہاسنگ سکیم اور کراچی کے ہاسنگ فانڈیشن کے پراجیکٹس کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فائونڈیشن کو جب تک اتھارٹی نہیں بنایا جائے گا سرکاری ملازمین کی رہائش کے مسائل التوا کا شکار ہوتے رہیں گے۔ ایک پراجیکٹ کی منظوری کے لیے بہت وقت ضائع ہوتا ہے ۔

سینیٹر خانزادہ خان اور بہرامند خان تنگی نے کہا کہ گریڈ 16اور اوپر کے کئی افسران کو چھوٹے گریڈ کے مکان الاٹ ہوئے ہیں مگر ان سے الانسز بڑے گریڈ کے گھرجیسے کاٹے جارہے ہیں ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی کے کل کے اجلاس میں بلاکر اسٹیٹ آفس سے اس بارے میں تفصیل لی جائے گی۔ سیکرٹری وزارت ہاس اینڈ ورکس نے کہا کہ 1995سے مزید گھر بنانے پر پابندی عائد ہے۔

17ہزار گھر ملازمین کو الاٹ ہوچکے ہیں ۔ جبکہ 21ہزار ملازمین ویٹنگ لسٹ پر ہیں ۔سینارٹی کی بنیاد پر مکان الاٹ کیے جاتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وزارت کے ماتحت باقی اداروں بارے بریفنگ کمیٹی کے کل کے اجلاس میں لی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز نجمہ حمید ، سردار محمد یعقوب خان ناصر ، مرزا محمد آفریدی ، بہرامندخان ، مولانا عبدالغفور حیدری ، انورلعل ڈین ، خانزادہ خان ، برگیڈیئر (ر)جان کینتھ ولیمز ، سجاد حسین طوری ، نصیب اللہ بازئی اور سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ سیکرٹری ہاسنگ اینڈ ورکس اور دیگر اعلی حکام نے شر کت کی۔