پاکستا نی ایکسپو رٹ میں اضا فہ کیلئے ایف پی سی سی آئی نے سفا رشات حکومت پاکستا ن کو بھیج دی

پیر مئی 20:06

پاکستا نی ایکسپو رٹ میں اضا فہ کیلئے ایف پی سی سی آئی نے سفا رشات حکومت ..
کرا چی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ نے پاکستان کی بر آمدت کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی دستا ویزات تیا ر کیے ہیں ۔ یہ تجا ویز ایکسپورٹ ایڈوائزری کمیٹی ایف پی سی سی آئی کی مشورات سے تیا ر کیے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کی ہد ایت پر تیار کی گئی ہیں تا کہ بر آمدات میں اضافہ ہو سکے جس میں ایکسپورٹ کی بہتری کیلئے طر یقہ کار کی روشنی میں تیار کیے ہیں ۔

اس رپورٹ میں مختلف برآمدات کے سیکٹر ز کے متعلق تجاویز ہیں اور بلخصو ص ٹیکسٹا ئل سیکٹر جو پاکستانی ایکسپورٹ کا سب سے بڑا سیکٹر بھی ہے ۔ ٹیکسٹا ئل سیکٹر کی رپو رٹ اس با ت کو ظاہر کیاگیا ہے کہ میں پاکستان ہمسایہ ممالک کے مقا بلے میں ٹیکسٹا ئل ایکسپورٹ کے اہداف حاصل کر نے پیچھے رہ گیا ہے جیسا کہ بنگلادیش ٹیکسٹا ئل ایکسپورٹ کا ہدف 60ارب ہے، بھارت نے ایکسپورٹ میں 30ارب کا ہدف رکھا ہے، جبکہ پاکستانی کل برآمدت 25بلین سے کم ہو کر 20 بلین تک رہ گئی ہیں ۔

(جاری ہے)

ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی اس رپورٹ میں یہ ظاہر کر رہی ہے ۔ رپورٹ نے مختلف مسا ئل در یا فت کیئے جو ٹیکسٹا ئل کی برآمدات کو متا ثر کیے ہو ئے ہیں جیسا کا روبا ری لا گت خصو صاً 11فیصد ٹیکسز اور سر چار جز جو کہ ٹیکسٹا ئل سیکٹر کے مینو فیکچرز پر کیئے ہو ئے ہیں ۔ اسی طر ح Cooton Balesکی کم پیداوار اور حکومتی سطح پر جو ٹیکسٹا ئل پیکیج اعلا ن ہو ا تھا اس پر عمل پر عمل در آمدنہ ہو نا ہے اور ہماری یو ٹیلیٹی بلز اور خام ما ل کی زائد قیمتیں بھی ٹیکسٹا ئل کی بر آمدات میں کمی کی وجہ ہے ۔

رپورٹ کے مطا بق چین عالمی سطح پر 36فیصد ٹیکسٹا ئل کی برآمدات میں حصہ رکھتا ہے جبکہ ویت نا م 12.4فیصد اور پاکستان 7فیصد حصہ رکھتا ہے اگر Products Specific ایگر یمنٹ ان تین ممالک کے درمیان کر لیا جا ئے تو یہ تینو ں ممالک دنیا کی ٹیکسٹائل ما رکیٹ کا 50فیصد حصہ Capture کر سکتے ہیں ۔