قومی اسمبلی کا ایک اور اجلاس کورم کی نظر ،حکومت کو شرمندگی کا سامنا

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن خواجہ قمر سہیل منصور کینکتہ اعتراض پر بات کر نے کی اجازت نہ ملنے پر کو رم کی نشاندہی ، گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا جس پر سپیکر نے اجلاس کورم پورا ہونے تک کیلئے ملتوی کر دیا

پیر مئی 20:06

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) قومی اسمبلی کا ایک اور اجلاس کورم کی نظر ہو گیا ،جس کے باعث حکومت کو ایک بارپھر شرمندگی کا سامنا کر نا پڑا ، ایم کیو ایم پاکستان کے رکن خواجہ قمر سہیل منصور نے نکتہ اعتراض پر بات کر نے کی اجازت نہ ملنے پر کو رم کی نشاندہی کر دی ، گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا جس پر سپیکر نے اجلاس کورم پورا ہونے تک کے لئے ملتوی کر دیا،بعد ازاں اجلاس دوبارہ گنتی کرانے پر بھی کورم پورا نہ ہو سکا ، سپیکر نے اجلاس( آج) منگل تک کے لئے ملتوی کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا ۔اجلاس کے آغاز میںورکنگ بائونڈری پر بھارتی فائرنگ سے شہید ہونے والوں اور امریکی ریاست ٹیکساس میں فائرنگ کے واقعہ میں جاں بحق ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رکن خواجہ قمر سہیل منصور نے نکتہ اعتراض پر بات کر نی چاہی ، جس پر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پہلے وقفہ سوالات نمٹا تے ہیں اس کے بعد آپ بات کر لینا تاہم خواجہ قمر سہیل منصور بات کر نے لئے بضد رہے ،بات کر نے کی اجازت نہ ملنے پر خواجہ قمر سہیل منصور نے کو رم کی نشاندہی کر دی ، گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا جس پر سپیکر نے اجلاس کورم پورا ہونے تک کے لئے ملتوی کر دی ۔

(جاری ہے)

بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو سپیکر نے گنتی کا حکم دیا۔ ارکان کی مطلوبہ تعداد نہ ہونے پر سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس( آج) منگل کی صبح گیارہ بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔