حکمران حکومت کے آخری لمحات میں بھی عوام کو جھوٹے وعدے اور سیاسی بیانات سے ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں، پانچ سال دھرنوں اور ہڑتالوں میں گزارنے والے خیبرپختونخوا کی عوام کیلئے کوئی تبدیلی نہ لاسکے ،آج پانچ سال بعد لگتا ہے پشاور 100سال پیچھے چلاگیا ہے،مشیر امیر جماعت اسلامی محمد انتخا ب خان چمکنی کا صحافیوسے گفتگو

پیر مئی 20:16

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) مشیر امیر جماعت اسلامی و چیئر مین مشاورتی کونسل جے آئی خیبر پختونخوا محمد انتخا ب خان چمکنی نے کہاہے کہ حکمران حکومت کے آخری لمحات میں بھی عوام کو جھوٹے وعدے اور سیاسی بیانات سے ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں،آج پانچ سال دھرنوں اور ہڑتالوں میں گزارنے والے صرف جھوٹے وعدے اور سیاسی نعروں کے علاوہ عملی طور پر خیبرپختونخوا کی عوام کیلئے کوئی تبدیلی نہ لاسکے،پانچ سال بعد لگتا ہے کہ پشاور تقریباً 100سال پیچھے چلاگیا ہے ۔

وہ پیر کو صحافیوں سے گفتگو کر ر ہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کیساتھ بہت سے وعدے کیے گئے تھے جن میں کرپشن کا خاتمہ تین مہینوں میں ، تین سو سے زیادہ ڈیم بنانے کا وعدہ ، ایجوکیشن اور ہیلتھ ریفارم کے نام پر بلند دعوے ، پولیس اور پٹھواری کا نظام ٹھیک کرنا ، سونامی درخت کا منصوبہ اور آخر بی آر ٹی کا میگا پراجیکٹ سب جھوٹے کے جھوٹے نکلے،لگتا یہ ہے کہ حکمران عوام کو خوابوںکی دُنیا میں لے گئے ہیں کیونکہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے ایفاء نہ کر سکیں اور پانچ سال بعد لگتا ہے کہ پشاور تقریباً 100سال پیچھے چلاگیا ہے۔

(جاری ہے)

پورا شہرکھنڈارات میں تبدیلی ہو چکا ہے ،،بجلی اور گیس عوام کو میسر نہیں ۔جس سے ہم پچھلی صدی میں چلے گئے ہیں۔ آج اس اکیسوی صدی میں یہاں کے عوام افطاری و سہری میں لکڑیاں جلا کر انتظام کر تے ہیں۔ انتخا ب خان چمکنی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ممبرانِ صوبائی اسمبلی حالیہ سینٹ الیکشن میں ووٹ فروخت کرنے کے باوجود صرف شوکاز ایشو کر نے کی حد تک رہے۔

اور کوئی تعد یبی کاروائی نہ ہو سکی ۔ مطلب حکمرانوں نے کرپشن خاتمے کا نعرہ محض جھوٹا وعدہ ثابت ہو سکا ۔ عملی طور پر کوئی سچائی نہیں۔اسکے علاوہ صوبے میں ہسپتالوں کی حالت بدتر ہیں۔ ادوایات اور وارڈوں کی حالت مایوس کن ہے اور مریض بے چارے اِدھر اُدھر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ تعلیمی نظام کا حال ناپُر سان ہے۔ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کی تعنیاتی سے لے کر پرائمری سکولوں کی حالت انتہائی مخدوش نظرآتی ہے۔

اور حکمرانوں کے وعدے جھوٹ کا پالندہ نظر آتاہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ رمضان میں اشیائے خردونوش کا قیمتوں کا تعین نہیں ہوسکا۔ حکومت کی پرائس کمیٹی کانام و نشان نہ ہوتے ہوئے ہر کوئی اپنی مرضی کی قیمتوں پر ضروریات زندگی کی اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔ حکمران کا کوئی شوق نہیں کہ حکومت چلانے میں عوام کو کوئی ریلیف دے سکے ۔ صرف اپنے جیبیں اور اکائونٹس میں اضافے دے کر آخری دِنوں میں پوری کی پوری کمائی کرنا چاہتے ہیں۔