بڑے سیاسی ناموں کی جانب سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن پریشان

پنجاب میں مظبوط اور انتخابی امیدواروں کی تلاش کے لیےمسلم لیگ (ن) نے کمیٹیاں قائم کردیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر مئی 19:03

بڑے سیاسی ناموں کی جانب سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے بعد مسلم لیگ ..
لاہور( اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔21مئی 2018ء) :بڑے سیاسی ناموں کی جانب سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن کی پریشان عروج پر پہنچ گئی۔ پنجاب میں مظبوط اور انتخابی امیدواروں کی تلاش کے لیےمسلم لیگ (ن) نے کمیٹیاں قائم کردیں۔تفصیلات کے مطابق تفصیلات کے مطابق جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے ،سیاسی جماعتوں میں اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ تیز تر ہوتا جا رہا ہے ۔

ایک جانب پاکستان تحریک انصاف اپنے مخالفین کی وکٹ پر وکٹ اڑا رہے ہیں تو دوسری جانب مسلم لیگ ن نے بھی انٹکابات کی تیاری اور اپنے بڑے ناموں کی سیاسی وفاداریاں اپنے ساتھ بنائے رکھنے کے لیے اہم اقدامات کر لئیے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ ن اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گرر رہی ہے۔

(جاری ہے)

عین الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے بڑے بڑے سیاسی ناموں کی جانب سے مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ دینے کے بعد پنجاب میں مسلم لیگ ن کی سیاسی پوزیشن کمزور سے کمزور تر ہو چکی ہے۔

مرکزی قیادت سمیت بڑے بڑے رہنما یکدم سیاسی وفاداریاں تبدیل ہو جانے کے باعث پریشان ہیں ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بڑے سیاسی ناموں کی جانب سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن کی پریشان عروج پر پہنچ گئی۔ پنجاب میں مظبوط اور انتخابی امیدواروں کی تلاش کے لیےمسلم لیگ (ن) نے کمیٹیاں قائم کردیں۔امیدواروں کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ جاری کرنے کی سفارش کرنے کے لئے ڈویژنل سطح پر 9کمیٹیاں قائم کردی ہیں ۔

یہ کمیٹیاں 28 مئی 2018ء تک اپنی سفارشات تیار کرکے مسلم لیگ (ن) کے صدر و وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو پیش کریں گی۔ ڈویژنل سطح پر کمیٹیوں میں مسلم لیگی رہنماؤں و قومی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو ڈویژنل کمیٹی کی نگرانی میں کام کریں گی۔ محمد حنیف عباسی کو لاہور،، ڈاکٹر طارق فضل چودھری‘ بلال یاسین اور عتیق سرور اٹک‘ بیگم عشرت اشرف‘ ملک ابرار لیہ‘ طاہرہ اورنگزیب بھکر میں امیدواروں کے بارے میں سفارشات تیار کریں گی۔