حکومت بلوچستان کے مالی سال 2018-19کے بجٹ کے خدوخال و ترجیحات

پیر مئی 20:25

کوئٹہ۔21مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) بلوچستان حکومت نے وزیراعلی میر قدوس بزنجو کی قیادت میں صوبے کا پانچواں بجٹ پیش کردیا جس میں تعلیم صحت اور امن و امان کیلئے ریکارڈ فنڈز مختص کیئے گئے ہیں۔ پہلی دفعہ صوبے کی تاریخ میں دیکھنے کو آیا کہ کسی منتخب وزیراعلی نے بجٹ پر صرف دستخط کرنے کی بجائے اسکا مجموعی طور پر تفصیلی جائزہ لیا اور اسمیں کی گئی غلطیوں کی نشاندھی کی ۔

بجٹ کو عوامی بنانے کیلئے وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور انکی ٹیم نے دن رات کام کیا اور حتیٰ کہ آخری پندرہ دنوں میں عام تعطیلات کے دوران بھی کام جاری رہا خصوصاً محکمہ خزانہ اور فنانس میں رات گئے تک کام ہوتا رہا اور آخر کار اس انتھک محنت کے بعد وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان کے عوام سے کئے گئے ایک اور وعدہ کو پورا کرتے ہوئے ٹیکس فری بجٹ پیش کیا جس میں ترقیاتی کاموں کیلئے ریکارڈ نوے ارب روپے کی رقم مختص کی گئی جس میں سب سے زیادہ فنڈز تعلیم کیلئے مختص کئے گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

اس مقصد کیلئے پہلی بار ہائیر اور سیکنڈری ایجوکشین کیلئے علحیدہ علحیدہ فنڈز مختص کیئے گئے ہیں ۔مشیر خزانہ بیگم رقیہ ہاشمی نے تین کھرب باون ارب روپے کا بجٹ پیش کیا جس میں 88.3ارب روپے ترقیاتی جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے 264.04ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں خسارے کا حجم 60ارب70کروڑ روپے ،صوبے کے اپنے وسائل کے آمد ن کا تخمینہ 15.1ارب جبکہ وفاق سے حاصل ہونے والی آمدن کا تخمینہ 243.2ارب روپے لگایاگیاہے ، سرکاری ملازمین اور پنشنر ز کی تنخواہوں اور مراعات میں وفاق کی طرز پر اضافے کااعلان کیاگیاہے ۔

اگلے مالی سال کے بجٹ میں امن وامان ،،تعلیم ،صحت ودیگر شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ صوبے کے اپنے وسائل سے آ مدن کا تخمینہ 1.15 ارب روپے ہے ، جبکہ صوبے کو وفاق سے قابل تقسیم پول سی224.1 ارب روپے ، براہ راست منتقلی سے 9.1 ارب روپے ، جبکہ دیگر مد میں 10.0 ارب روپے کی آ مدن ہوگی ، کل آ مدن کا تخمینہ 290.5 ارب روپے ہے ، جبکہ آ ئندہ مالی سال کا بجٹ خسارہ61.7 ارب روپے لگایا گیا ہے ، بجٹ میں بیروزگاری کے خاتمے کے لئے 8035 اسامیوں کا اعلان کیا گیا ہے ، سرکاری ملازمیں کی تنخواہوں اور پنشن میں وفاقی حکومت کے اعلان کردہ طرز پر 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ، امن و امان کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 34 ارب ، محکمہ اسکولز کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 43.9 ارب ، صحت کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں 19.4 ارب روپے مختص ، میڈیکل کالج نصیر آ باد کیلئے 3 ارب روپے ، بیروزگار نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے لئے 2.1 ارب روپے ، جان لیوا بیماریوں کے علاج کے لئے ایک ارب روپے مختص ، 1.5 ارب روپے کی لاگت سے عمارتوں سے محروم اسکولوں کو عمارت فراہم کی جائینگی ، حکومتی خرچے پر ہوٹلوں میں میٹنگ و تقریبات کے انعقاد ، ظہرانے و دیگر طعام اور لگژری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی رہے گی، مالی سال2017۔

18 میں پی ایس ڈی پی کا حجم86 ارب روپے تھا ، جس میں 1211 جاری اسکیمیں جبکہ 1549 نئی اسکیمیں شامل تھیں ۔ 2017۔18 پی ایس ڈی پی پر نظر ثانی کے بعد اسکا حجم 76.8 ارب روپے کر دیاگیا ہے ، نظرثانی کے بعد 1231 جاری اسکیموں کیلئے 27.9 ارب روپے اور 1432 نئی اسکیموں کیلئے 1.67 ارب روپے مختص کئے گئے ، جبکہ وفاقی پی ایس ڈی پی سے صوبائی محکموں کے توسط سے عمل درآمد ہونے والی اسکیموں اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے ذریعے چلنے والے منصوبوں کے فنڈز کی مد میں 6 ارب روپے اس کے علاوہ ہیں امن و امان قائم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ، صوبائی حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور حوصلہ افزائی و معاونت کررہی ہے ، اس سلسلے میں یو این ڈی پی کے تعاون سے پانچ سالہ منصوبے پر کام جاری ہے جس کے تحت عدلیہ ، انتظامیہ ، پولیس ، لیویز ، پراسکیوشن اور محکمہ جیل خانہ جات میں بہتری کے لئے کام ہورہا ہے ، حکومت کے سنجیدہ اقدامات کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آ ئی ہے ، مگر شرپسند عناصر کی سرگرمیاں ابھی ختم نہیں ہوئیں ، ایسے واقعات پر قابو پانے کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جارہے ہیں ، آ ئندہ مالی سال 2018۔

19 میں امن و امان کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 34 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریبا دس فیصد زیادہ ہیں ، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو موجودہ حالات اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جدید خطوط پر منظم کیا جارہا ہے اس سلسلے میں دو ارب روپے کی خطیر رقم سے جدید و معیاری اسلحہ اور دیگرضروری آ لات فراہم کرنیکا بندوبست کیا جارہا ہے ، آ ئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ میں محکمہ تعلیم (اسکولز) کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 43.9 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں پچیس فیصد زیادہ ہے ، مالی سال 2018۔

19 میں سو سے زائد نئے پرائمری سکول قائم کئے جائیں گے، 100پرائمری اسکولوں کو مڈل کا درجہ دیا جائیگا جبکہ سو مڈل اسکولوں کو ہائی کا درجہ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے صوبے کے تمام سکولوں میں فرنیچر لکھائی پرھائی اسٹیشنری کا سامان سائنسی آ لات ٹاٹ اور کھیلوں کے سامان کی کمی کو دور کرنے کیلئے 83.3کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، آ ئندہ مالی سال بجٹ میں محکمہ تعلیم (کالجز) کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 5.8 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہیں ، چالیس کروڑ روپے کی لاگت سے کوئٹہ میں کالج ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جائیگا ، ضلع کوئٹہ میں نیشنل یونیورسٹی آ ف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کیمپس کے قیام کیلئے زمین خریدنے کی غرض سی1.2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، 50کروڑ روپے کی خطیر رقم سے صوبے بھرکی8500 طلبا و طالبات کو میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ تقسیم کئے مالی سال2017۔

18کے ترقیاتی بجٹ میں صوبے کے 30کالجز میں بیچلر لاجز کی تعمیر کیلئے پچاس کرو ڑروپے کی خطیر لاگت سے تعمیرات کی منظوری دی گئی ہے ، آ ئندہ مالی سال 2018۔19 کے لئے شعبہ صحت کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں 19.4ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہیں ، جبکہ مالی سال 2018۔19 کے دوران صوبے میں واحد کینسر ہسپتال کے لئے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اسی طرح بلوچستان ادارہ برائے قلب کی تعمیر کی غرض سے 2.5 ارب روپے خرچ کئے جائینگے ، سول ہسپتال کوئٹہ کی نئے سرے سے جدید طرز پر تعمیر بھی زیر غور ہے جس پر لاگت کا تخمینہ تقریباً 3 ارب روپے ہے ، بجٹ میں محکمہ زراعت کے لئے تقریباً 8.7 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 5فیصد زیادہ ہیں ، نئے مالی سال میں قلعہ سیف اللہ اور اوتھل میں مارکیٹ اسکوائرز کو 5کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کرلیا جائے گا، اٹھارہ مختلف اضلاع میں تقریباً 28.8 کروڑ روپے کی لاگت سے سرکاری زرعی فارمز کو مکمل طور پر فعال بنانے کا منصوبہ ہے، بجٹ میں محکمہ لائیواسٹاک کے لئے تقریباً 4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 2فیصد زیادہ ہے ، نئے مالی سال کے دوران جانوروں کی مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے 30کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، امور حیوانات ہسپتال کی تعمیر پر لاگت کا تخمینہ 50کروڑ روپے ہے، نئے مالی سال 2018۔

19 میں محکمہ ماہی گیری کے لئے تقریباً 92 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 4 فیصد زیادہ ہیں، فش ہیچری ضلع صحبت پور اور جعفر آ باد کی قیام کی منظوری زیر غور ہے جس پر لاگت کا تخمینہ تقریباً 23کروڑ روپے ہے ، آ ئندہ مالی سال 2017۔18 کے دوران محکمہ لوکل گورنمنٹ کو لوکل باڈیز کے لئے غیر ترقیاتی مد میں تقریباً 6.4 ارب روپے اور ترقیاتی مد میں 5 ارب روپے فراہم کردئیے گئے ہیں ، رواں مالی سال 2017۔

18 کے دوران تقریباً 1200 کلومیٹر معیاری بلیک ٹاپ سڑکیں بنائی گئیں اور آ نے والے مالی سال 2018۔19کے دوران مزید اتنی ہی بلیک ٹاپ سڑکوں کا ہدف رکھا گیا ہے ، آ نے والیمالی سال 2018۔19میں محکمہ معدنیات کے لئے غیر ترقیاتی مد میں تقریباً 2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال 2017۔18کے مقابلے میں تقریباً 15فیصد زیادہ ہے، مالی سال 2018۔19میں محکمہ آ بپاشی کے لئے 2.8 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، وفاقی حکومت کے تعاون سے آ ب پاشی کے 9بڑے اور 19 چھوٹے منصوبے زیر تکمیل منصوبوں پر تقریباً 5.5ارب روپے خرچ آ ئے گا، مالی سال 2018۔

19 میں آ بنوشی کے شعبے کے لئے تقریباً 3.8 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، جو گزشتہ مالی سال 2017۔18کے مقابلے میں 3فیصد ہیں ، نئے مالی سال میں پانچ سو واٹر سپلائی ٹیوب ویلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا جس پر تقریباً 1.5ارب روپے کا خرچہ ہوگا خوراک کی مد میں بلوچستان کابینہ نے اس سال گندم پر 87 کروڑ روپے کی سبسڈی کی منظوری دی ہے اور مزید بر آ ں کھلی منڈی میں قیمتوں کو برقرار رکھنے اور وفاقی حکومت کے فیصلے کی تقلید کرتے ہوئے اشیاء 4 صرف کی دوسری چیزوں کے علاوہ رمضان پیکیج کی مد میں مزید 60 کروڑ روپے سستے آ ٹے کی فراہمی کے لئے مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،مالی سال 2018۔

19 کے دوران جنگلات کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے جس کا حجم 1 ارب روپے کردیا گیا ہے ، مزیدبر آ ں مالی سال 2018۔19میں 13جاری اور 6نئے منصوبوں کے لئے 12.3 کروڑ روپے کی ضروری فنڈ مہیا کیے جائیں گے ، آ ئندہ مالی سال کے دوران کویت انویسمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے بوستان ضلع پشین میں شمسی توانائی کا پلانٹ لگایا جائے گا جس سے 100 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی، بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لئے ہوم سولر ایڈوانس کے لئے اسکیم تیاری کی ہے ، جس سے ملازمین کو ہوم سولر سسٹم کے لئے آ سان شرائط پر قرضہ دستیاب ہوگا اس اسکیم سے دور لاکھ آ ٹھ ہزار سرکاری ملازمین اور 80 ہزار پنشنرز استفادہ کرسکیں گے ، مالی سال 2018۔

19 میں محکمہ صنعت و تجارت کے لئے تقریباً 1.2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال 2017۔18کے مقابلے میں تقریباً 10فیصد زیادہ ہیں ،خضدار اور بوستان میں اسپیشل اکنامک زونز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، ترقی نسواں کے لئے تقریباً 11.2 کروڑ روپے کا ترقیابی بجٹ مختص کیا گیا ہے، محکمہ ثقافت و سیاحت کے لئے غیر ترقیاتی مد میں تقریباً 19.8 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، مالی سال 2018۔

19 میں خصوصی افراد کے لئے انٹر کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا اگر اس بجٹ کا تقابلی جائرزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پہلی بار صوبے کے کسی حکمران نے بلوچستان کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیم صحت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے وافر مقدار میں فنڈز مختص کئے ہیں خصوصاً ہر ضلع میں سکول و کالجز کسیاتھ نئی یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کے قیام پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے بلوچستان کا اس وقت سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور صوبائی حکومت پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہے اور ہر سطح پر سیکورٹی فورسز کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری ہے وہیں بجٹ میں بھی صوبے میں امن و امان کی بحالی کیلئے بیس ارب سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے جس سے حکومت کی امن وامان کی بحالی کیلئے عزم کا اعادہ ہوتا ہے اسکے علاوہ پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے جہاں ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دی گئی ہے وہیں متبادل ذرائع سے بھی پانی کی فراہمی کیلئے فنڈز مختص کیئے گئے ہیں جو ایک خو ش آ ئند بات ہے ورنہ ماضی میں تو اس حوالے سے سابق حکمرانوں کے دعوے صرف بیانا ت تک محدود تھے اور اگر کبھی فنڈز مختص بھی کیئے گئے تو وہ کرپشن کی نظر ہوگئے وزیراعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے جب سے اپنے عہدے کا چار چ لیا ہے صوبے کی ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں خصوصاً صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی ترقی کیلئے کوئٹہ پیکج پر کام شروع کردیا گیا ہے حالانکہ وفاق نے اپنے وعدے کے مطابق اسکے لیئے فنڈز فراہم نہیں کئے لیکن اسکے باجود اس میگا منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ہے اور بجٹ میں بھی اسکے لئے وافر رقم مختص کی گئی بہرحال کوئی کچھ بھی کہے موجودہ حکومت کا پیش کردہ بجٹ ایک تاریخی بجٹ ہے جسمیں پسماندہ صوبے کے عوام پر ٹیکسوں کا کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا گیا بلکہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں دس فیصد اضافہ کرکے انکی داد رسی کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

بجٹ میں تمام طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ھے اور خصوصاً ترقیاتی منصوبوں میں ذاتی کی بجائے اجتماعی منصوبوں کو اولیت دی گئی ہے اور بلا امتیاز صوبے کے ہر علاقے کو برابری کی بنیاد پر فنڈز مہیا کیئے گئے ہیں