نوازشریف نے نیب عدالت میں شرمناک بیان دیا، عمران خان

نوازشریف نےعدالت میں قطری خط سے بھی انکارکردیا ،نوازشریف نے نیب عدالت میں کہا کہ ایون فیلڈ فلیٹس بیٹوں کے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹوئٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر مئی 20:16

نوازشریف نے نیب عدالت میں شرمناک بیان دیا، عمران خان
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 مئی 2018ء) : تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف نے عدالت میں شرمناک بیان دیا ہے،،نوازشریف نے نیب عدالت میں قطری خط سے بھی انکار کردیا ،،نوازشریف نے نیب عدالت میں کہا کہ ایون فیلڈ فلیٹس بیٹوں کے ہیں۔انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے نیب عدالت میں سوالوں کے جواب پرردعمل میں اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ3بار کے منتخب وزیراعظم نوازشریف نے عدالت میں شرمناک بیا ن دیا ہے۔

نوازشریف نے نیب عدالت میں کہا کہ ایون فیلڈ فلیٹس بیٹوں کے ہیں۔۔نوازشریف نے نیب عدالت میں قطری خط سے بھی انکار کردیا ہے۔۔عمران خان نے کہا کہ ٹیکس نادہندگان کا پیسا دو سال عدالتوں میں جے آئی ٹی میں ضائع کردیے۔۔نوازشریف منی لانڈرنگ کیلئے مضحکہ خیز وضاحتیں دے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی طرح اسحاق ڈار بھی لوٹی دولت بچوں کو بھیج سکتے ہیں پھر اسحاق ڈار بھی کہیں گے کہ بچوں کے پاس دولت کا معلوم نہیں ہے۔

واضح رہے احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان سے127 سوال پوچھے ہیں۔جس کا سوالنامہ شریف فیملی کودیا گیا۔ سوالنامہ 90 صفحات پرمشتمل ہے۔عدالتی سوالنامے میں نواز شریف سےعوامی عہدوں سےمتعلق بھی سوال شامل کیے گئے،،عدالت نے تینوں ملزمان سے کئی مشترکہ سوال بھی پوچھے۔ تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

نوازشریف نے 58 سوالات کے جوابات ددے دیے ہیں۔ عدالتی سوالنامہ میں پہلے10 سوالات جےآئی ٹی کی تشکیل اورایم ایل ایز سے متعلق ہیں۔ اس موقع پرعدالت میں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث سوالات کے جوابات دینے میں ان کی معاونت کرتے رہے۔ جبکہ نوازشریف جواب دینے کے دوران جیب سے رومال نکال کر پسینہ صاف کرتے رہے۔ عدالت میں منی ٹریل سے متعلق سوال پرنواز شریف نے جواب دیا کہ یہ سوال حسن اورحسین نواز سے متعلق ہے۔

تاہم اس وقت حسن اورحسین نوازعدالت کے سامنے موجود نہیں ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ استغاثہ نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیے جس سے میرا لندن فلیٹ سے تعلق ظاہرہو۔ حدیبیہ پیپر ملز اورگلف اسٹیل کے قیام میں میرا کوئی کردارنہیں رہا۔ نوازشریف نے کہا کہ میرے براہ راست علم میں نہیں کہ گلف اسٹیل کے قیام کیلئے فنڈزکہاں سے آئے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے ایک سوال پرجواب دیا کہ طارق شفیع کے بیان حلفی سے ظاہر ہوتا ہےگلف اسٹیل قرض کی رقم سے بنائی گئی۔

طارق شفیع کو اس کیس میں نہ تو ملزم نامزد کیا گیا ہے نہ ہی گواہ ہے۔ گلف اسٹیل کے 25 فیصد حصص کی فروخت کے معاہدے سے متعلق ایم ایل اے پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 1980ء کے معاہدے پر شہباز شریف اور طارق شفیع کےدستخط سے انکارپرکچھ نہیں کہ سکتا۔ طارق شفیع اور شہباز شریف نے میری موجودگی میں دستخطوں سے انکار نہیں کیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ 12اکتوبر1999ء کو مجھے حراست میں لے لیا گیا۔تب مجھے گرفتار کرکےغیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔ جبکہ بعد میں مجھے سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا جہاں سےمیری2007ء میں واپسی ہوئی۔