’’موڈیز انوسٹرز سروس‘‘ نے پاکستان کی کریڈٹ درجہ بندی ’’بی 3 مستحکم‘‘ کو برقرار رکھا ہے، وزارت خزانہ

پیر مئی 20:46

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) دنیا کے نہایت باوقار اور معتبر کریڈٹ ریٹنگ ادارے ’’موڈیز انوسٹرز سروس‘‘ نے پاکستان کی کریڈٹ درجہ بندی ’’بی 3 مستحکم‘‘ کو برقرار رکھا ہے۔ یہ درجہ بندی ملک کی مضبوط شرح نمو و صلاحیت، نسبتاً بڑی معیشت اور گذشتہ پانچ برسوں میں حکومت کی طرف سے شروع کردہ پائیدار اصلاحاتی پروگرام کی بنیاد پر کی گئی۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ’’موڈیز‘‘ کے کریڈٹ تجزیہ میں اقتصادی میدان میں پاکستان کی وسیع تر شفافیت کے ساتھ ساتھ افراط زر کے کم دبائو اور پاک۔۔چین اقتصادی راہداری کے تحت توانائی اور بنیادی ڈھانچہ کے شعبوں میں خطیر سرمایہ کاری کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ پاکستان کی مستحکم درجہ بندی سی پیک منصوبہ جات پر کامیاب عملدرآمد کے ساتھ اس کی نمو کو موجودہ سطح سے مزید تقویت دینے کی صلاحیت کی بھی حامل ہے جن سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری راغب ہوئی جبکہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی سرگرمی اور زرعی شعبہ کی کارکردگی بھی سامنے آئی جن سے پاکستان کو پائیدار بنیاد پر بلند شرح نمو کے حصول میں مدد ملی۔

(جاری ہے)

موڈیز نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے حجم کو مالی سال 2017ء میں 305 ارب ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ بھی اجاگر کیا جو ’’بی‘‘ ریٹنگ کی ’’ساورن‘‘ کیٹگری میں تیسری سب سے بڑی ہے اور یہ مقامی اور بیرونی دھچکوں کو برداشت کرنے کی ملکی صلاحیت کی بھی حامل ہوتی ہے۔ پاکستان نے جی ڈی پی نمو میں بھی مالی سال 2018ء میں 5.8 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ بہتر کارکردگی دکھائی جو ’’بی‘‘ درجہ کی حامل کیٹگری میں گذشتہ برس 3.8 فیصد کے مقابلہ میں بہت بہتر رہی۔

رپورٹ میں حالیہ برسوں میں ملک کی ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط پر عملدرآمد کا حوالہ دیا گیا۔ موڈیز توقع رکھتا ہے کہ پہلے 6 ماہ میں مضبوط محصولاتی وصولیوں کے باعث مالیاتی خسارہ مالی سال 2018ء میں جی ڈی پی کا 5.5 فیصد رہے گا۔ یہ وصولیاں گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 20 فیصد زیادہ رہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض شعبہ جات جن میں ملک کو اپنی توجہ ازسرنو مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ان میں محصولات کی بنیاد کو بڑھانا، سماجی شعبہ جات میں سرمایہ کاری، مسابقت کی بہتری، نجکاری کو ازسرنو تقویت دینا اور قرضوں کا محتاط انتظام شامل ہیں تاہم اصلاحاتی ایجنڈا میں تسلسل اور میکرو اکنامک استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور نمو کے حامل اقدامات جاری رہنے سے مستقبل کی صورتحال خوش آئند دکھائی دیتی ہے۔

موڈیز توقع رکھتا ہے کہ پاکستان آئندہ مالی سال میں بھی نمو کا تسلسل برقرار رکھے گا۔ پاکستان کی حکومت نے موڈیز انوسٹرز سروس کی طرف سے پاکستان کی ’’ساورن ریٹنگ‘‘ کی توثیق کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت چیلنجز کے باوجود بلند شرح نمو کے ساتھ مستحکم راہ پر گامزن ہے۔