مسلم لیگ (ن) توانائی کے 13 نئے منصوبے نہ لگاتی تو بجلی ناپید ہوتی، اس وقت اضافی بجلی موجود ہے،

ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کمزور ہے جسے جون تک مکمل کیا جانا تھا وزیر مملکت خزانہ رانا محمد افضل خان کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو

پیر مئی 20:46

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) توانائی کے 12 سے 13 نئے منصوبے نہ لگاتی تو بجلی ناپید ہوتی، اس وقت اضافی بجلی موجود ہے، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کمزور ہے جسے جون تک مکمل کیا جانا تھا۔ پیر کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ نواز شریف نے پاکستان کے بیانیہ کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) 2013ء میں جب برسر اقتدار آئی تو اس وقت توانائی کا شدید بحران تھا لیکن سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنے وژن اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک سے توانائی بحران اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔

(جاری ہے)

آج نہ صرف اپنے لگائے ہوئے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں بلکہ ماضی میں تاخیر اور التواء میں پڑے اربوں روپے کے منصوبے بھی مکمل کرانے کا اعزاز محمد نواز شریف اور موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب مسئلہ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کا ہے جسے تبدیل کیا جا رہا ہے، جب تک ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک تبدیل نہیں ہو گا ضروری مرمت کیلئے بجلی بندش کا مسئلہ آتا رہے گا۔ توقع ہے کہ جون تک ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی تبدیلی کے بعد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ رانا محمد افضل نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں فاضل بجلی موجود ہے ، اگر 12 سے 13 نئے منصوبے نہ لگائے جاتے تو بجلی ناپید ہو چکی ہوتی۔