تعلیم یافتہ عورت ہی اپنی اولاد کو معیاری تربیت دے کر معاشرے کاذمہ دار فرد بناسکتی ہے ،محمد خان ہادی بخش زرداری

پیر مئی 21:54

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) ڈپٹی کمشنر ٹنڈو محمد خان ہادی بخش زرداری نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا نصب حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور خواتین کی ترقی سے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ عورت ہی اپنی اولاد کو معیاری تربیت دے کر معاشرے کاذمہ دار فرد بناسکتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی سی کمپلیکس میں محکمہ وومین ڈوی یلپمنٹ کی جانب سے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی مسائل کے حوالے سے منعقد ہ سیمینار میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ وقت گزر چکا جب خواتین گھر وں میں بیٹھ کر صرف گھریلو کام کرتیں تھیں لیکن اس وقت خواتین تعلیم اور زندگی کے دیگر معاملات میں مردوں کے شانہ بشانہ مدمقابل ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے خواتین کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جس نے پاکستان کی پہلی خواتین وزیر اعظم کے طور پر اپنی خدمات سرنجام دے کر دنیا میں پاکستان کا روشن کروایا کہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان میں خواتین کی ٖفلاحی و ترقی ترجیح بنیادوں میں سے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو چایئے کہ اپنے بچیوں کو برابری کے بنیاد پر حقوق دیں اور انہیں دینی و دنیاوی تعلیم دلانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عورت تعلیمی ذہین رکھنے والی عورت ہے جس کی مثال ضلع تھر پارکر کی عورتیں رلی کے ڈزائینوں پر کام کرکے سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرناہے ۔ جس سے پاکستان کی خواتین کا تخلیقی ذہن اندازہ لگایا جاسکتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ یورپین ممالک میں اس قسم کی ذہین افراد کی ہمت افزائی کی جاتی ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی خواتین کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے اس موقع پر سیمینار کی آرگنائزر وومین کمپلین سیل کی انجارچ سیدہ قرة العین شاہ نے سیمینار منعقد کرانے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین معاشرے کے کسی بھی میدان میں مردوں سے کم نہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو معیاری تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی حقوق کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے انہوں نے کہاکہ 1094ہیلپ لائین کا آغاز کیا گیا ہے جس پر چوبیس گھنٹے مسائل کے حل کرنے کیلئے اپنے شکایات درج کرائے جاسکتے ہیں۔

اس موقع پر محکمہ سوشل و یلفیئر ، این آر ایس پی ، ایچ دی ایف اور سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی ۔