کراچی،سندھ اسمبلی بجٹ اجلاس ، حکومتی اور اپوزیشنکا ایک دوسرے پر کڑی تنقید

شور و غل نے سندھ اسمبلی کو گلی محلے کے گراؤنڈ میںتبدیل میرے علاوہ کسی نے بھی بجٹ بک کو نہیں پڑھا،زیادہ تر ممبران نے بجٹ کو پڑھے بغیر بحث کی،سپیکر شہلا رضا

پیر مئی 22:45

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دورن ایک بار پھر جوتے کی بازگشت سنائی دی ،جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان ایک دوسرے پر کڑی تنقید کرتے رہے .تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا،،سندھ اسمبلی کا جلاس 50 منٹ کی تاخیر سے 12 بجے کے بجائے 12 بج کر 50 منٹ پر شروع ہوا،اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان میںایک بار پھر گرما گرمی دیکھنے میں آئی اور ارکان اسمبلی کے شور و غل نے سندھ اسمبلی کو گلی محلے کے گراؤنڈ میںتبدیل کردیا.ارکان اسمبلی نے بجٹ پر بحث سے ذیادہ مخالفین پر تنقید کی..سندھ اسمبلی اجلا س میںڈپٹی اسپیکر شہلارضا اپوزیشن پر برس پڑیں،،شہلا رضا نے بجٹ تقریر کے آغاز ہی میں اپوزیشن پر طنز شروع کردیا،انہوںنے کہا کہ میرے علاوہ کسی نے بھی بجٹ بک کو نہیں پڑھا،زیادہ تر ممبران نے بجٹ کو پڑھے بغیر بحث کی۔

(جاری ہے)

کسی نے بھی فیڈرل حکومت سے یہ نہیں پوچھا کہ سندھ کے ساتھ معتصبانہ رویہ رکھا، دوسال سے این ایف سی ایوارڈ کیوں نہیں دیا گیا ،،شہلا رضا نے کہا کہ حکومت نے تمام تر مشکلات کے باوجود ٹیکس فری بجٹ دیا۔حکومت کی مشکلات میں کام کرنے کی کوششیں کو کسی نے نہیں سراہا۔امن وامان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کرپشن کی باتیں ہوئیں،این ٹی ایس سے اٹھارہ ہزار میریٹ پر بھرتیاں کیں۔

ہمارے شہید قائدین پر تنقید افسوس ناک ہے،،کرپشن کرپشن کرنے والے یہ کیوں نہیں کہتے سندھ حکومت نے اچھے کام بھی کیے،انہوںنے کہا کہ سانحہ قصور کیوں ہوتا رہا ،مشال ، عاصمہ رانی کے واقعات سب کے سامنے ہیں،،پشاور میں تاجروں سے طالبان بھتہ لے رہے ہیں ،حد ہوتی ہے کہ کہا گیا ہے کہ سارا بجٹ تعلیم پر رکھ دیا جائے،شہلارضا نے کہاکہ کوٹہ سسٹم شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے متعارف نہیں کیا۔

ذوالفقار بھٹو نے دس سال کے لیے کوٹہ سسٹم لگایا تھا، پرویز مشرف نوازشریف اور اسحاق خان نے کوٹہ سسٹم میں توسیع کی ، ،کوٹہ سسٹم وفاقی مسئلہ تھاایم کیوایم وفاقی حکومتوں میں رہی ،کبھی کوٹہ سسٹم کے خلاف بل تو کیا بات تک نہیں کی گئی۔پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں کوٹہ سسٹم کو توسیع نہیں دی ،،شہلا رضا نے ایم کیو ایم ارکان کو مخاطب کر کے کہا کہ ایک صاحب نے مجھے خالہ کہہ کر مخاطب کیا،مجھے خالہ کہنے پر شکریہ ادا کرتی ہوں ، آپ کے ہاں خواتین کو مہ جبین کہنے کا رواج ہے ،انہوںنے کہا کہ کے پی کے میں ہر چھوتا بچہ اسکول سے باہر ہے،11 لاکھ بچے اسکول کبھی گئے ہی نہیں یہ ہے خٹک کی تبدیلی جہاں تعلیم کی صورتحال بہت خراب ہے،،مولانا سمیع الحق کے مدرسے میں رقوم خرچ کی گئیں،ایک ہزار اسکول خیبر پختونخواہ میں کم رجسٹریشن پر بند ہوئے،صحت میں پبلک پرائیوٹ سیکٹر میں ہماری کامیابی پر دیگر اضلاع ہم سے مشورہ کر رہے ہیں،،شہلا رضا نے ا یم کیو ایم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ انہوںنے بہاریوں کو وطن واپس لانے کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

بہاریوں کی واپسی بھی شہید بھٹو کے دور میں ہوئی ،اورنگی ٹائون کوآباد کیا گیا.اجلاس کے دوران سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے گزشتہ روز فنکشنل لیگ کی رہنما نصرت سحر عباسی کی جانب سے جوتا دکھائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا،ان کاکہنا تھا کہ اب لوگوںمیں برداشت اور حوصلہ نہیںرہا،یہاں کچھ لوگوںکو اپنی زبان اور پاؤں پر کنٹرول نہیںہی..پیپلز پارٹی جمہوری روایات کی امین ہے ،ہم نے تو بڑی بڑی باتیںسنی ہیںاور ہم میںہر کسی کی بات سننے کا حوصلہ موجود ہے ..سندھ کے سینئر وزیر نثار کھوڑ نے اپنی تقریر میںکہا کہ سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران جوتا دکھانا بہت ہی چھوٹی حرکت ہے ،جس اسمبلی نے لوگوںکو عزت دی ،وہی لوگ اب اسمبلی کو جوتا دکھا رہے ہیں،جو کہ افسوسناک امر ہے ،انہوںنے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیںکہ ہم تبدیلی لائے ہیں وہ اپنے صوبے کا بجٹ نہیں لا سکے۔

یہاںبھی بڑی تبدیلی آئی ہے وہ پیپلزپارٹی کے ہی مرہون منت ہے۔ ہمیں اپنی محنت اور کارکردگی سے حکومت ملتی ہے۔ آئندہ بھی ہماری کارکردگی پر ہمیں حکومت ملے گی۔ سندھ نے اپنے محدود وسائل کے باوجود ترقی کی ہے اور وہ ترقی میں دوسرے نمبر پر ہے۔انہوںنے کہا کہ صوبے نے اپنی ریکوری چار ارب سے سو ارب بڑھا دی ہے۔ جس کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ تین سو ارب سے زائد ہے۔

2015میں ایک اور این ایف سی ایوارڈ آنا چاہیے تھا لیکن سندھ کے لوگ آج تک اس کا انتظار کر رہے ہیں اور ہم نئے این ایف سی ایوارڈ کے بغیر چل رہے ہیں۔ ہر بجٹ کے بعد این ایف سی کا انتظار کرتے ہیں لیکن صرف کٹوتی ملتی ہے۔جو اس بات کو نہیں مانتے وہ تلملائے ہوئے ہیں،جو یہاں چلاتے ہیں لیکن وہ قومی اسمبلی میں سندھ کے خلاف زیادتیوں بہت خاموش ہیں۔

وفاق میں بیٹھے، ہوئے سندھ کے لوگ منافقت کرتے ہیں،،سندھ اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران اپوزیشن لیڈر اور ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے سندھ بجٹ مسترد کردیا ،،سندھ اسمبلی میںبجٹبحث پر تقریر کرتے ہوئے خواجہ اظہا رالحق نے کہا کہ پرتعیش زندگی گزارنے کے اخراجات بجٹ میں موجود ہیں، بجٹ میں صرف اخراجات کو کورکیا گیا ،،بجٹ مستردکرتاہوں ،اس سے قبل سندھ اسمبلی میںخواجہ اظہار الحسن اپنے دونوںصاحبزادوں کے ہمراہ آئے ،اسپیکراورممبران اسمبلی نیخواجہ اظہارکیبچوں کوڈیسک بجاکرویلکم کہا،وزیٹرگیلری میں خواجہ اظہارالحسن کیدونوں صاحبزادیبھی تقریرسنتیرہے،خواجہ اظہار نے بجٹ تقریر میںکہا کہ سیدسرداراحمدصاحب اوروزیراعلیٰ مراد علی شاہ کیتجربیسے سیکھا ہے، ہم نے حکومت کے ان اقدام کی حمایت کی جو عوام کے مفاد میں تھے،،مردم شماری،،این ایف سی پرسندھ حکومت نے ن لیگ سیخفیہ معاہدہ کیاہواہے،این ایف سی کینافذپرسندھ حکومت نیکوئی احتجاج نہیں کیا،انہوںنے کہاکہ وزرا اپنی سیٹ پکی کرتے رہے چمچہ گیری کی بھی حد ہوتی ہے، لیاری میں کامیابی کے جھنڈے کیوں نہیں نظر آئے،،پانی کی قلت پوری کرنے کاشرجیل میمن نے وعدہ کیاتھا،،شرجیل میمن نے یہاں تک کہاتھاکہ پانی کے میٹرزرکھے ہوئے ہیں،،پانی کے میٹرزرکھے تھے تو لگائے کیوں نہیں گئے،،پانی کے معاملے پرسندھ حکومت اربوں روپے کی اسکیمیں کھا گئی،اس موقع پر پیپلزپارٹی کے اسیر رکن شرجیل میمن اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور خواجہ اظہار الحسن اور ان کے درمیان تلخ جملوںکا تبادلہ بھی ہوا،،شرجیل میمن نے کہا کہ میں خواجہ اظہار کوجواب دینا چاہتاہوں،موقع دیاجائے،ڈپٹی اسپیکرآپ کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دیسکتیں،خواجہ اظہارنے میرانام چاربارلیامجھے بھی بات کرنے دی جائے،مجھے تقریرکرنے دی جائے میں ان کاکچاچٹھا کھول دوں گا،جس پر خواجہ اظہار نے کہا کہ آپ ضرورتقریرکریں آپ کی تقریراسلام آباد میں نیب والے سنناچاہیں گے،تاہم ڈپٹی اسپیکر شہلا رضانے شرجیل میمن کو بولنے کی اجازت نہیںدی،خواجہ اظہار الحسن نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہاکہ آج تک سندھ میں ایک کیوسک پانی کا اضافہ نہیں ہوا، واٹر بورڈ کے درجن بھر چیئرمین تبدیل کر دیے گئے، ڈیفنس میں وزرا کے گھروں پر بھی پانی نہیں آرہا،واٹربورڈمیں موجودساڑھی4ہزارملازمین پراعتراض کیوں ہورہاہے،آپ نوکری دیں تو سرکاری اور ہم نوکری دیں تو غداری،،موقع ملاتوواٹربورڈکیایم سی سمیت تمام اداروں میں مزیدبھرتی کریں گے، میں انٹرنیٹ پر شرجیل میمن اورجام خان شورو کے دعوے چلاوں گا،حکومت نے پورے کراچی کاانفرااسٹرکچرتبدیل کرنیکی بات کی تھی،ایک علاقے کاانفرااسٹرکچر بھی تبدیل نہیں ہوا،ہمیں کہاگیاسٹی گورنمنٹ میں غنڈا گردی سے بل پاس کرائے گئے،،،سندھ اسمبلی میں بھی اکثریت کی بنیاد پرغنڈاگردی سے بل پاس کرائے گئے،اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے غنڈا گردی کے لفظ حذف کرا دیے،خواجہ اظہار الحسن نے مزید کہا کہ سندھ میں ہاریوں کے لیے کوئی کھاد بیج پالیسی نہیں،باردانے کیلیے ہاری مظاہرے کرتے رہتے ہیں،شوگر مل مافیا ہاریوں کا گنا بروقت نہ خرید کر نقصان پہنچاتی ہے،ہاریوں کیلیی8 ارب روپے کی اسکیم گزشتہ بجٹ میں تھی اب نہیں، بتایا جائے کہ 8 ارب روپے کہاں گئے،ان کا کہنا تھا کہ پلاننگ اینڈڈیولپمنٹ کی ایک اسکیم 1522میں 60 ملین خرچ ہوئے، اسی اسکیم پر پھر 9 ملین دوبارہ خرچ کر دیے گئے، کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروگرام 52 فیصدپررکاہواہیلیکن رقم خرچ ہورہی ہی.صوبائی وزیر قانون ضیائ الحسن لنجار نے اپنی تقریر کے دوران کہاکہ سندھ کی وحدت کو ختم کرنے والے خودتقسیم ہوچکے ہیں،اندرون اور بیرون سندھ کی بات کرنے والے سمجھ لیں سندھ ایک ہے، مہاجر تو کیمپوں میں رہنے والے ہوتے ہیں ہم نے تو آپ کو دلوں میں جگہ دی ، سندھ صرف سندھ ہے یہاں کوئی اندرون یا بیرون نہیں ہے۔

لندن سے بیان آتا تھا اوریہاں لاشیں گر جاتی تھیں،،ایم کیو ایم کے دورحکومت میں دہشتگروں کو رہا کیا گیا،ہم نے کسی کو پیرول پررہا نہیں کیا، ایم کیو ایم نے وکیلوں کو انکے چیمبر میں جلا دیا،ججوں کے چیمبرمیں بیٹھ کر کلاشنکوف دکھائی گئیں،دھرتی کو تقسیم کرنے والے کیسے یہاں کے مخلص ہوسکتے ہیں انہوںٓنے کہاکہ آئین میں نئے صوبے کی کوئی گنجائش نہیں،آسمانی صحیفہ بھی آجائے توبھی ہم سندھ کی تقسیم قبول نہیں کریں گے ،ہماری دعا ہے کہ سندھ میں امن کی بارش ہو۔

انہوںنے فنکشنل لیگ کی نصرت سحرعباسی کا نام لئے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر تنقید کی گئی کہ میں موٹر سائیکل چلاتا تھا،میں تو چائے بھی بیچتا تھا آپ اسمبلی سے پہلے کیا کرتی تھیں ان کے لیڈروں کو بھی کہوںگاکہ انکا دماغی معائنہ کرانے کے بعد اسمبلی بھیجیں،پاگل لوگوں کو اسمبلی مت بھیجا کریں۔انہوں نے کہا کہ جوتا دکھانے کے عمل کی مذمت کرتے ہیں،شاید وہ جوتے کا سائز چیک کروانا چاہتی ہوں۔مجھ پر الزامات ثابت کریں ورنہ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کروںگا۔#