ڈائریکٹریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن نے ڈیپوٹیشن سے واپس آنیوالے چوکیدار کا مستقبل تاریک کر دیا،اہلخانہ فاقہ کشی پر مجبور

پیر مئی 23:08

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) ڈائریکٹریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن نے ڈیپوٹیشن سے واپس آنیوالے چوکیدار کا مستقبل تاریک کر دیا، اہلخانہ فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن میں 1995 ء میں ربنواز نامی چوکیدار بھرتی ہوا جو 2012 ء میں پنجاب حکومت میں ڈیپوٹیشن پر گیا اور بعد ازاں 2015 ء میں ڈیپوٹیشن میں توسیع کرائی۔

(جاری ہے)

دو سالہ توسیعی عرصہ مکمل ہونے کے بعد جنوری 2018 ء میں واپس ڈائریکٹریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن میں آ گیا تاہم ابھی تک اسے زبانی احکامات کے ذریعے ادھر ادھر بھیجا جا رہا ہے اور تحریری حکم کے ذریعے کہیں باقاعدہ ڈیوٹی دینے کی بجائے زبانی احکامات پر کام چلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اس کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں کی جا رہی ۔ربنواز کے اہلخانہ فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ عید سر پر آنے کی وجہ سے مزید پریشانی کا شکار ہیں۔ ربنواز کاکہنا ہے پانچ ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی جارہی ۔انہوں نے تنخواہ کی عدم ادائیگی پر خودسوزی کی دھمکی دیتے ہوئے وزیراعظم ، چیف جسٹس اور دیگراعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔