گزشتہ 5 برس کے دوران تعمیر کی جانے والی موٹرویز کی تفصیلات جاری کردی گئیں

گزشتہ پانچ سالوں میں این ایچ اے نی1750 کلومیٹر موٹر ویز اور 1100 کلومیٹر ہائی ویز تعمیر کی ہیں،این اے قائمہ کمیٹی ہائی ویز اتھارٹی کو بریفنگ ہائی ویز اور موٹر ویز پولیس میں 3869 آسامیاں پیدا ہو ئی ہیں،جلد بھرتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا ،سیکرٹری مواصلات جواد رفیق ملک، کمیٹی کا انڈس ہائی وے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

پیر مئی 23:12

گزشتہ 5 برس کے دوران تعمیر کی جانے والی موٹرویز کی تفصیلات جاری کردی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہائی ویز اتھارٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ سالوں میںاین ایچ اے نی1750 کلومیٹر موٹر ویز اور 1100 کلومیٹر ہائی ویز تعمیر کی ہیں جبکہ ہائی ویز اور موٹر ویز پولیس میں 3869 آسامیاںپیدا ہو ئی ہیں جن پر جلد بھرتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا ۔کمیٹی کا اجلاس سوموار کو چیئر مین کمیٹی مزمل قریشی کی زیر صدارت ہوا کمیٹی نے گزشتہ پانچ سال کی این ایچ اے کی کارکردگی کو سراہا سیکرٹری مواصلات جواد رفیق ملک نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سال مین این ایچ اے نے بڑی محنت سے کام کیا ہے ہزارہ ایکسپریس وے ہری پور تک مکمل ہو گئی ہے ۔

حویلیاں سے آگے کام بھی جلد مکمل کر لیا جائیگا ملتان سے سکھر موٹر وے کا ایک حصہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ سکھر سے حیدر آباد پر کام جاری ہے کمیٹی نے انڈس ہائی وے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کی مرمت کا کام جلد مکمل کیا جئے جس پر جواد رفیق نے کہا ہے کہ این 5 کے بعد اگلے منصوبے میں انڈس ہائی وے کو دو رویہ کریں گے۔

(جاری ہے)

یہ منصوبہ ایشئین ڈیو پلیمنٹ بینک کی مدد کے ساتھ ہی مکمل کیا جائے گا ممبر کمیٹی صاجزادہ طارق اللہ نے کہاکہ اپر دیر داروزہ پل پر بھی تاحال کا م شروع نہیں ہوا ۔

لواری ٹنل سے گزرا تو خوشی ہوئی ۔ ڈی آئی جی موٹر وے پولیس عباسی احسن نے کہا ہے کہ ہمیں نفری کی کمی کا سامنا تھا کمیٹی نے ہمارے مسئلے کو حل کرنے میں ہماری مدد کی ہے۔ جلد ان پوسٹوں پر بھرتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا ہمارے مطالبے پر جونئیر پروٹوکول آفیسر کو گریڈ 5 سے گریڈ 7 دے دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ پروٹول آفیسرکو گریڈ 7 سے گریڈ9 دیدیا گیا ہے ۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ آئندہ برس کے آخر تک یاکلہ سے ڈی آئی خان موٹر وے مکمل ہو جائے گی منصوبے کا بیشتر حصہ رواں برس سے مکمل ہو جائے گا لیکن کچھ حصہ ہائی رہے گا جو آئندہ برسی مارچ اپریل تک مکمل ہو جائے گا۔