فیصل آباد کا فیاض ماہی ، 14کتابوں کا مصنف رکشہ چلانے پر مجبور

عابد شیر علی کا کلاس فیلو اور محلے دار 100سے زائد فیملی اسٹیج پلے لکھنے کے باوجود کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر مئی 21:57

فیصل آباد کا فیاض ماہی ، 14کتابوں کا مصنف رکشہ چلانے پر مجبور
فیصل آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔21مئی 2018ء) ::فیصل آباد کا فیاض ماہی ، 14کتابوں کا مصنف رکشہ چلانے پر مجبور ہے۔ عابد شیر علی کا کلاس فیلو اور محلے دار 100سے زائد فیملی اسٹیج پلے لکھنے کے باوجود کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق وقت کی گردش ایک ایسی چکی ہے جس میں بڑے بڑے باصلاحیت افراد پس کے رہ جاتے ہیں ۔

ایسے افراد میں سے ہی ایک فیصل آباد کے فیاض ماہی ہیں۔فیاض ماہی دیکھنے میں ایک معمولی رکشہ ڈرائیورہیں لیکن ان کی تصانیف ، کتابیں ، ناول اور اسٹیج پلے ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فیاض ماہی کا کہنا تھا کہ میری تعلیم مڈل ہے میں میٹرک بھی نہیں کر سکا اور میٹرک نہ کر پانے کی وجہ بھی یہ تھی کہ میرے پاس فیس کے 40روپے نہیں تھے ۔

(جاری ہے)

میرا داخلہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے مجھے سکول سے نکال یا گیا جس کے بعد میں نے منڈی میں مزدوری کرنا شروع کی اور پھر کریانے کی دوکان پر بھی کام کیا۔فیاض ماہی کا کہنا تھا کہ رکشہ چلانا میری محنت ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ میں محنت کی کما رہا ہوں جبکہ لکھنا میرا جنون ہے ۔
میں بنیادی طور پر ناول نگا ر ہوں میری 14 کتابیں اس وقت بازار میں موجود ہیں جبکہ 100سے زائد فیملی اسٹیج پلے بھی تحریر کر چکا ہوں ۔

انکا کہنا تھا کہ تعلیم ڈگریوں کی محتاج ہو سکتی ہے علم ڈگریوں کا محتاج نہیں ہے۔انکا کہنا تھا میں نے 1987میں ایک لائبریری شروع کی جس میں 2010تک ہزاروں کتابیں آ چکی تھیں۔جس میں موجود میں نے ان کتابوں کو پڑھا جس کو پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ مجھے بھی لکھنا چاہیے ، پہلی تحریر کو مقبولیت ملی تو معلوم ہوا کہ میں لکھ سکتا ہوں ، کوشش کرتے کرتے آج اس مقام پر ہوں کے میری چودہ کتابیں ہیں۔

فیاض ماہی کا کام اس قدر معیاری ہے کہ اسلامیہ یونیرسٹی میں انکے کام پر مقالا جات لکھے جا رہے ہیں۔فیاض ماہی کا کہنا تھا کہ رکشہ چلاتے ہوئے جو مجھ پر بیتتی ہے وہ تلخ یادیں ہیں اگر میں براہ راست بات کروں گا تو رو دوں گا مجھ سے بات نہیں ہو سکے گی ۔اپنے اخراجات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اللہ نے پردہ رکھا ہوا ہے۔میں سوا دو مرلے کے گھر میں رہ رہا ہوں ،میری دو بیٹیاں گھر میں جگہ نہ ہونے کے باعث اپنے ماموں کی جانب جا کے سوتی ہیں۔

انکا کہنا تھا میں گلی نمبر 6 میں پیدا ہوا ہوں اور عابد شیر علی گلی نمبر 5 میں ۔انکا کہنا تھا کہ میرا اور عابد شیر علی کا رشتہ 15 سال سے رہا ہے ،بچپن اکٹھا گزرا ہے ایک ساتھ کرکٹ کھیلی ہے لیکن عابد شیر علی نے اتنا مرتبہ حاصل کرنے کے باوجود کبھی بھی بات کرنا گوارا نہیں کی۔اس موقع پر فیاض ماہی نے پنجاب حکومت سے اپیل کی ہے کہ میرے لیے ایک چھوٹے سے گھر کا انتظام کر دیں تا کہ میری بچیوں کو یہ محسوس ہو سکے کہ یہ چھت انکی چھت ہے اور انکو یہاں سے کوئی نہیں نکالے گا۔