داعش کو شامی فوج نے دمشق کے آخری ٹھکانے سے بھی بے دخل کر دیا

فلسطینیوں کے یرموک پناہ گزین کیمپ سے داعش کے 3600 جنگجوؤں اور خاندانوں کو 32 بسوں کے ذریعے نکالا،مبصرتنظیم

منگل مئی 11:50

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) شامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوجوں نے دمشق کے نواحی علاقے میں قائم داعش کے آخری ٹھکانے کو بھی ختم کرتے ہوئے یرموک فلسطینی پناہ گزین سے بھی داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انسانی حقوق کی آبزرویٹری کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ فلسطینیوں کے یرموک پناہ گزین کیمپ سے داعش کے 3600 جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو 32 بسوں کے ذریعے نکالا گیا۔

اس کے بعد سرکاری فوج نے یرموک کیمپ کی تمام کالونیوں القدم، التضامن اور الحجر الاسود کا کنٹرول سنبھال لیا ہے،شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سرکاری فوج نے جنوبی دمشق میں الحجر الاسود کالونی سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا۔

(جاری ہے)

سرکاری میڈیا کے مطابق یہ دمشق میں داعش کے جنگجوؤں کا آخری ٹھکانہ تھا، جسے خالی کرا لیا گیا ہے۔شامی فوج اور اس کے حلیفوں نے بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے حجر الاسود کالونی، یرموک کیمپ اور اس کے اطراف سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے بعد دارالحکومت دمشق کو داعش سے مکمل طور پر پاک کر لیا ہے۔

قبل ازیں انسانی حقوق آبزرویٹری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسدی فوج اور داعش کے درنیان جنوبی دمشق میں انخلاء کا ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے کے تحت داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو وہاں سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ مہیا کیا جائیگا۔

متعلقہ عنوان :