عربوں سے امتیازی سلوک،

فرانس کے ایک ہوٹل کو تحقیقات کا سامنا ہوٹل میں عرب، افریقی گاہکوں ،با حجاب خواتین کے ہوٹل میں قیام پر پابندی،حکام نے تحقیقات شروع کردیں

منگل مئی 13:02

پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) فرانس میں اسلام فوبیا کے بڑھتے اثرات سے متاثر ہونے والے ایک ہوٹل نے مسلمان اور عرب گاہکوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک شروع کر رکھا ہے۔ دوسری جانب پیرس کے اس مشہور ہوٹل کی طرف سے مسلمانوں سے امتیازی سلوک روا رکھنے کے واقعات کی تحقیقات کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق فرانس میں وزیر کے منصب کے مساوی انسانی حقوق کے مندوب جاک ٹوپون نے پیرس کے ہوٹل کی طرف سے مسلمان گاہکوں سے امتیازی سلوک کے واقعات کی چھان بین شروع کی ہے۔

ہوٹل پر الزام ہے کہ اس نے عرب، افریقا سے آنے والے گاہکوں اور حجاب کرنے والی خواتین کے ہوٹل میں قیام پر غیر قانونی طور پر پابندی لگا رکھی ہے۔پیرس کے ماونٹین ایونیو میں واقع ہوٹل کی انتظامیہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے ایسے گاہکوں کی بکنگ پر پابندی عاید کر رکھی ہے جن کے نام عربی میں ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ محجب خواتین بھی ہوٹل میں کھانا کھا سکتی ہیں اور نہ ہی قیام کے لیے انہیں بکنگ کی سہولت حاصل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ہوٹل کے گاہکوں میں خلیجی ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مگر عرب ناموں کی پابندی کے باعث ان کا قیام بھی متاثر ہوا ہے۔ ہوٹل کے ڈائریکٹر پر گاہکوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے جس کے باعث گاہک خوف زدہ ہیں۔دوسری جانب پیرس کے میئر کی معاون ھیلین بیدار نے ہوٹل انتظامیہ نے ناروا سلوک پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں فرانسیسی پراسیکیوٹر جنرل سے ہوٹل کے امتیازی رویے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ عنوان :