ملک میں ہاکی کی ترقی کیلئے فیڈریشن کو اکیڈمیز، لوکل ٹورنامنٹس اور پاکستان سپر لیگ کے انعقاد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،اولمپیئن شہناز شیخ

منگل مئی 13:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) قومی ٹیم کے سابق کوچ اولمپیئن شہناز شیخ نے کہا ہے کہ ملک میں ہاکی کی ترقی کیلئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اکیڈمیز، لوکل ٹورنامنٹس اور پاکستان سپر لیگ کے انعقاد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت سے ایشین گیمز کی تیاری میں فائدہ پہنچے گا۔

چیمپئنز ٹرافی میں 23 جون سے یکم جولائی تک ہالینڈ میں کھیلی جائے گی جس میںچھ ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں پاکستان،، ہالینڈ، آسٹریلیا، ارجنٹائن، بیلجیئم اور بھارت کی ٹیمیں شامل ہیں اور یہ تمام دنیا کی اچھی ٹیمیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک اچھا موقع ہوگا کہ ایشین گیمز میں کامیابی حاصل کرکے اولمپک کیلئے کوالیفائی کر لے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہاکی کے کھیل کے فروغ کیلئے ملک میں چار، پانچ اکیڈمیز کا قیام بہت ضروری ہے اور جو اولمپیئن خود ہاکی کی اکیڈمیز بنانا چاہتے ہیں فیڈریشن کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، غیرملکی کوچز کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شہناز شیخ نے کہا کہ آخر کار ہم کب تک غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کرتے رہیں گے اور ہمیں اپنے پائوں پر خود کھڑا ہونے کی ضرورت ہے اور ہمارے پاس اتنی رقم بھی نہیں ہوتی کہ ہر وقت غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو قومی ٹیم کے ساتھ سوچ سمجھ کر کوچز لگانے چاہیئں تھے لیکن ماضی میں ایسا نہیں ہوتا رہا ہے جس کی وجہ سے قومی ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو پاکستانی کوچز تیار کرنے چاہیئں اور ہمارے کوچز کو تربیت دینے کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں سال میں ایک دو مرتبہ کوچنگ کورسز کا انعقاد ہونا چاہئے، ایک اور سوال کے جواب میں حکومت کھلاڑیوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کو یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ہاکی کی ترقی کیلئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اکیڈمیز، لوکل ٹورنامنٹس اور پاکستان سپر لیگ کے انعقاد پر توجہ دینی ہوگی اس کے بغیر ملک میں قومی ہاکی کھیل کی ترقی ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ سے کھلاڑی کو مالی فائدہ بھی ہوگا۔